(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)مصنوعی مٹھاس (آرٹیفیشل سویٹنرز) کو برسوں سے چینی کا نسبتاً صحت مند متبادل سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس تصور پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ محققین کے مطابق مصنوعی مٹھاس خون میں شوگر کو بہتر انداز میں کنٹرول کرنے کے بجائے بعض صورتوں میں اس کے توازن اور جسم کے میٹابولزم کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی سویٹنرز میں کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ جسم کے انسولین نظام اور شوگر کے طویل مدتی کنٹرول پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
21 طبی مطالعات کا جائزہ
امریکا کی ٹفٹس یونیورسٹی کے فریڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پالیسی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر مینگ وانگ اور ان کی تحقیقی ٹیم نے اس موضوع پر 21 رینڈمائزڈ کلینیکل ٹرائلز کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ان مطالعات میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد کا موازنہ ان افراد سے کیا گیا جنہوں نے پانی یا کیلوری سے پاک پلیسبو استعمال کیا تھا۔
خون میں شوگر کے اہم اشاریوں پر اثر
تحقیق کے نتائج کے مطابق مصنوعی سویٹنرز استعمال کرنے والے افراد میں فاسٹنگ انسولین اور ایچ بی اے 1 سی (HbA1c) کی سطح نسبتاً زیادہ دیکھی گئی۔
ایچ بی اے 1 سی ایک اہم طبی اشاریہ ہے جو گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران خون میں شوگر کے اوسط کنٹرول کی عکاسی کرتا ہے، اس لیے اس میں اضافہ صحت کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
انسولین کی حساسیت میں ممکنہ کمی
محققین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والوں میں انسولین کی حساسیت کم ہونے کے شواہد سامنے آئے، اگرچہ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے موجود شواہد ابھی محدود ہیں اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق موجودہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مصنوعی سویٹنرز کے جسم پر اثرات پہلے سے تصور کیے جانے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
مزید تحقیق کی ضرورت
ماہرین نے زور دیا کہ اس تحقیق کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام مصنوعی سویٹنرز ہر فرد کے لیے نقصان دہ ہیں، تاہم ان کے طویل مدتی اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید جامع اور طویل المدتی تحقیقات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ متوازن غذا، مناسب ورزش اور قدرتی غذاؤں کا استعمال صحت مند طرزِ زندگی کے لیے اب بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق مصنوعی مٹھاس کو طویل عرصے سے چینی کے محفوظ متبادل کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن نئی تحقیق اس حوالے سے احتیاط کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ اگرچہ یہ نتائج حتمی نہیں، تاہم یہ اس بات کی یاد دہانی ضرور کراتے ہیں کہ صحت سے متعلق ہر نئی تحقیق کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور کسی بھی غذائی عادت میں بڑی تبدیلی سے قبل ماہرین کے مشورے کو ترجیح دینی چاہیے۔
آپ کے خیال میں کیا شوگر فری مصنوعات واقعی صحت مند متبادل ہیں یا ان پر مزید احتیاط کی ضرورت ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔





















