لندن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)روزمرہ زندگی کی بڑھتی مصروفیات، معاشی دباؤ اور دیگر مسائل کے باعث ذہنی تناؤ آج لاکھوں افراد کے لیے ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ورزش، مناسب نیند اور آرام ذہنی سکون کے لیے ضروری ہیں، لیکن متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک بھی ذہنی دباؤ کم کرنے اور مزاج بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض غذائیں دماغ میں ایسے کیمیائی مادوں کی پیداوار بڑھانے میں مدد دیتی ہیں جو خوشگوار احساس، ذہنی سکون اور بہتر موڈ سے وابستہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر گرم دلیہ اور دیگر پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس والی غذائیں جسم میں سیروٹونن کی سطح بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض غذائیں تناؤ سے متعلق ہارمونز، خصوصاً کارٹیسول اور ایڈرینالین کی مقدار کو متوازن رکھنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس، جو آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں، ذہنی صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ثابت اناج سے تیار کردہ روٹی، براؤن پاستا، جئی (اوٹس) اور دیگر مکمل اناج والی غذائیں بہتر انتخاب ہیں کیونکہ یہ جسم کو بتدریج توانائی فراہم کرتی ہیں اور دماغی افعال کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
پھل اور سبزیاں بھی ذہنی صحت کے لیے نہایت مفید سمجھی جاتی ہیں۔ کینو، پالک اور دیگر غذائیت سے بھرپور پھل و سبزیاں جسم کو ضروری وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہیں، جبکہ بادام، اخروٹ، پستہ اور مختلف اقسام کے بیج صحت بخش چکنائی، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق روزانہ مناسب مقدار میں خشک میوہ جات استعمال کرنے سے دل کی صحت بہتر رہتی ہے، کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے، جسمانی سوزش میں کمی آ سکتی ہے اور ذہنی دباؤ کے منفی اثرات سے نمٹنے میں بھی معاونت حاصل ہوتی ہے۔
مشروبات کے حوالے سے ماہرین احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ میٹھی اشیا اور سافٹ ڈرنکس وقتی طور پر توانائی فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھا کر بعد میں مزید تھکن اور بے چینی کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے انہیں ذہنی سکون کے مستقل ذریعہ کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
تحقیقی مطالعات کے مطابق بلیک ٹی بھی ذہنی دباؤ میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں چھ ہفتوں تک روزانہ چار کپ بلیک ٹی استعمال کرنے والے افراد نے خود کو نسبتاً زیادہ پرسکون محسوس کیا، جبکہ ان کے جسم میں تناؤ سے وابستہ ہارمون کارٹیسول کی سطح بھی کم دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایواکاڈو، تازہ دودھ اور بعض قدرتی جڑی بوٹیوں پر مشتمل غذائیں بھی ذہنی سکون میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم اگر ذہنی دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہے، روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگے یا اس کے ساتھ بے خوابی، شدید بے چینی یا ڈپریشن جیسی علامات بھی ظاہر ہوں تو صرف غذا پر انحصار کرنے کے بجائے کسی مستند ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے ضرور رجوع کرنا چاہیے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق جدید تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ جسمانی اور ذہنی صحت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ان کے بقول متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی مل کر ذہنی دباؤ میں کمی اور مجموعی صحت میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر صارفین نے اس تحقیق کو مفید قرار دیتے ہوئے صحت مند غذا کو ذہنی سکون کے لیے ضروری قرار دیا۔ کئی افراد نے اپنی روزمرہ خوراک میں خشک میوہ جات، پھل اور بلیک ٹی شامل کرنے کے تجربات بھی شیئر کیے۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ متوازن غذا ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم شدید یا مسلسل ذہنی دباؤ، ڈپریشن یا اضطراب کی صورت میں پیشہ ورانہ طبی مشورہ اور مناسب علاج ضروری ہے۔
ذہنی صحت بھی جسمانی صحت کی طرح اہم ہے۔ متوازن خوراک، صحت مند معمولات اور بروقت طبی رہنمائی نہ صرف ذہنی سکون بلکہ بہتر معیارِ زندگی کے حصول میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
میری رائے میں ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے صرف ادویات ہی نہیں بلکہ متوازن غذا، مناسب آرام، ورزش اور مثبت طرزِ زندگی بھی بے حد اہم ہیں۔ تاہم اگر علامات طویل عرصے تک برقرار رہیں تو مستند ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا بہترین اور محفوظ راستہ ہے۔





















