نیویارک(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) لمبی عمر پانے کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنے والے امریکی ارب پتی برائن جانسن خود ایک ایسی بیماری کا شکار ہو گئے ہیں جس نے ان کے صحت سے متعلق غیر معمولی تجربات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
معروف کاروباری شخصیت برائن جانسن نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک نایاب خود مدافعتی بیماری لاحق ہے۔ اس بیماری میں جسم کا دفاعی نظام غلطی سے اپنے ہی اعضا پر حملہ آور ہو جاتا ہے، جس کے باعث متاثرہ شخص کو سنگین طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
48سالہ برائن جانسن کئی برسوں سے اپنی عمر کم ظاہر کرنے اور جسمانی صحت کو غیر معمولی حد تک بہتر بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے سخت غذائی پابندیوں، مسلسل طبی معائنوں، خون کے ٹیسٹوں، جسمانی اشاریوں کی نگرانی اور مختلف تجرباتی طریقوں پر بھاری رقم خرچ کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق خود مدافعتی بیماریوں میں جسم کا دفاعی نظام بیرونی جراثیم کے بجائے اپنے ہی صحت مند خلیات کو نقصان پہنچانے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں متاثرہ عضو میں سوزش، کمزوری، خون کی کمی، سانس یا ہاضمے کے مسائل اور دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی بیماریوں کا علاج عموماً طویل المدت طبی نگرانی، مخصوص ادویات، غذائی کمی پوری کرنے، سوزش کم کرنے والی دواؤں اور ضرورت کے مطابق دیگر مستند طریقہ علاج کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ مریض کو خود ساختہ یا غیر ثابت شدہ تجربات کے بجائے ماہر ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔
برائن جانسن کے اعلان کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا عمر روکنے یا کم کرنے کے لیے اختیار کیے گئے غیر معمولی تجربات انسانی جسم کے دفاعی نظام پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب تک ایسا کوئی مستند سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ ان کے تجربات نے براہ راست یہ بیماری پیدا کی ہو۔
جانسن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیماری کو بھی صحت سے متعلق اپنے بڑے منصوبے کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے جسم کے ہر اہم اشارے کا پہلے سے زیادہ باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ان کا صحت کا نظام اس بیماری کا مقابلہ کس حد تک کر سکتا ہے۔
دوسری جانب آزاد طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سنگین خود مدافعتی بیماریوں میں صرف مستند علاج پر انحصار کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق غیر ثابت شدہ طریقے مریض کی حالت کو بہتر کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
برائن جانسن دنیا بھر میں اس لیے مشہور ہیں کہ وہ عمر رسیدگی کو روکنے، جسمانی نظام کو جوان رکھنے اور انسانی زندگی کو طویل بنانے کے لیے نہایت مہنگا اور سخت طرزِ زندگی اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ ڈاکٹروں اور صحت کے ماہرین کی ایک ٹیم مسلسل کام کرتی ہے جو ان کے جسم کے مختلف نظاموں کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔
جانسن باقاعدگی سے خون کے تفصیلی ٹیسٹ، جسمانی معائنہ، مقناطیسی عکس برداری، صوتی لہروں سے معائنہ اور دیگر طبی جانچ کرواتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جدید سائنس اور مسلسل نگرانی کے ذریعے انسانی صحت کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔
طبی حلقوں کے نزدیک برائن جانسن کا معاملہ ایک اہم سوال سامنے لاتا ہے: کیا انسان اپنی عمر، صحت اور جسمانی نظام کو مکمل طور پر قابو میں لا سکتا ہے؟ فی الحال اس کا جواب واضح نہیں، مگر اس بیماری نے یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ انسانی جسم جدید ترین نگرانی کے باوجود اپنی پیچیدگی برقرار رکھتا ہے۔
روزنامہ تحریک کے صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ برائن جانسن کی بیماری کی خبر صرف ایک فرد کی صحت کا معاملہ نہیں، بلکہ جدید دور کے اس بڑے رجحان پر سوالیہ نشان ہے جس میں دولت، ٹیکنالوجی اور مسلسل طبی نگرانی کے ذریعے عمر کو قابو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جانسن نے اپنی زندگی کو ایک تجربہ گاہ بنا رکھا ہے، جہاں خوراک، نیند، ورزش، خون کے ٹیسٹ، جسمانی اشاریے اور طبی معائنے سب ایک منظم منصوبے کا حصہ ہیں۔ مگر اس کے باوجود ایک خود مدافعتی بیماری کا سامنے آنا اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ انسانی جسم ابھی تک مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی نظام نہیں بن سکا۔
یہ واقعہ ان لوگوں کے لیے بھی اہم ہے جو صحت کے نام پر غیر معمولی تجربات کو فوری کامیابی کا راستہ سمجھتے ہیں۔ جدید سائنس نے بلاشبہ علاج، تشخیص اور بیماریوں کی روک تھام میں حیرت انگیز پیش رفت کی ہے، لیکن ہر تجربہ محفوظ نہیں ہوتا اور ہر نیا طریقہ مستند علاج کا بدل نہیں بن سکتا۔ برائن جانسن کے معاملے میں ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ان کے طرزِ زندگی یا تجرباتی طریقوں نے بیماری کو جنم دیا، مگر یہ بحث ضرور مضبوط ہوئی ہے کہ انسانی جسم پر مسلسل مداخلت کے اثرات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس خبر کا دوسرا پہلو سماجی بھی ہے۔ عام آدمی کے لیے صحت کا مطلب مناسب خوراک، متوازن زندگی، بروقت علاج اور ذہنی سکون ہے، جبکہ برائن جانسن جیسے لوگ صحت کو ایک مہنگے منصوبے، اعداد و شمار اور تجربات میں تبدیل کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا صحت واقعی صرف دولت مند طبقے کا سائنسی منصوبہ بن کر رہ جائے گی، یا عوامی سطح پر بنیادی علاج اور احتیاطی صحت زیادہ اہم ترجیح ہونی چاہیے؟
طبی ماہرین کا محتاط رویہ درست دکھائی دیتا ہے۔ خود مدافعتی بیماریوں میں غیر ثابت شدہ طریقوں کے بجائے مستند علاج، ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی اور مسلسل طبی احتیاط ضروری ہے۔ برائن جانسن کا معاملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ لمبی عمر کی خواہش فطری ہے، مگر صحت کو تجربہ گاہ بنانے سے پہلے سائنس، اخلاقیات اور احتیاط تینوں کو ساتھ رکھنا ہوگا۔
یہ خبر دراصل ایک بنیادی پیغام دیتی ہے: انسان جدید ترین مشینوں، مہنگے معائنوں اور سخت معمولات کے باوجود فطرت کے پیچیدہ نظام سے باہر نہیں نکل سکتا۔ صحت کا راستہ صرف عمر بڑھانے کی دوڑ نہیں، بلکہ توازن، احتیاط اور مستند علم سے گزرتا ہے۔





















