تحریر؛شوکت ابرار
موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ نئی نسل مذہب سے دُور ہو رہی ہے، بلکہ اصل مسئلہ اس قدرتی نظام کا کمزور ہو جانا ہے جس کے ذریعے مذہب نسل در نسل منتقل ہوتا تھا۔ ماضی میں دین کی تعلیم اور اس کی روح محض کتابوں یا رسمی درسگاہوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ گھروں کے ماحول، والدین کے کردار، بزرگوں کی صحبت اور معاشرتی روایات کے ذریعے فطری انداز میں نئی نسل تک پہنچتی تھی۔ بچے اپنے والدین کے طرزِ عمل، گفتگو اور روزمرہ معمولات سے دین سیکھتے تھے، جس کے باعث مذہب ان کی شخصیت کا ایک لازمی حصہ بن جاتا تھا۔
لیکن جدید دور میں یہ قدرتی تسلسل شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا اور مسلسل معلوماتی شور نے نوجوان ذہنوں کو بے شمار متضاد خیالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عالمی سطح پر پھیلنے والی من گھڑت اقدار اور فکری یلغار ہے، اور دوسری طرف گھروں اور تعلیمی اداروں میں وہ مضبوط فکری بنیاد کمزور ہوتی جا رہی ہے جو پہلے نسلوں کو سنبھالتی تھی۔ اس صورتِ حال نے والدین، اساتذہ اور داعیین کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
اب یہ کافی نہیں رہا کہ صرف ماضی کی روایات کو دہرا دیا جائے یا پرانے انداز میں نصیحت کر دی جائے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اس "جنریشن گیپ” کو سمجھا جائے جو ٹیکنالوجی، تیز رفتار معلوماتی دنیا اور بدلتی ہوئی معاشرتی اقدار نے پیدا کر دیا ہے۔ آج کا نوجوان سوال کرتا ہے، دلیل چاہتا ہے اور اپنی زبان میں بات سننا پسند کرتا ہے۔ اگر اس کی فکری اور ذہنی ضروریات کو سمجھے بغیر صرف روایتی انداز اپنایا جائے تو پیغام اس کے دل تک نہیں پہنچ پاتا۔
مزید برآں، موجودہ دور میں دعوت کا مفہوم بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ دعوت اب محض ایک وعظ یا نصیحت کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسی امید کی فراہمی ہے جو مادیت زدہ ماحول میں انسان کی روح کو تازگی بخشے۔ آج کا نوجوان ذہنی دباؤ، سماجی مقابلے اور شناخت کے بحران کا شکار ہے۔ ایسے میں اگر دین کو صرف احکام اور پابندیوں کے مجموعے کے طور پر پیش کیا جائے تو وہ بوجھ محسوس ہو سکتا ہے، لیکن اگر اسے مقصدِ زندگی، سکونِ قلب اور امید کے سرچشمے کے طور پر پیش کیا جائے تو وہ دلوں میں جگہ بنا سکتا ہے۔
اس پس منظر میں والدین، اساتذہ اور دینی رہنماؤں کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہیں نہ صرف جدید ذرائع اور زبان کو سمجھنا ہوگا بلکہ نوجوانوں کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا۔ گھروں میں مثبت ماحول، محبت بھرا رویہ اور عملی نمونہ پیش کرنا اب سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح تعلیمی اور دینی اداروں کو بھی اپنی تدریسی حکمتِ عملی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا تاکہ نئی نسل کو دین سے جوڑنے کا عمل مؤثر انداز میں جاری رہ سکے۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ موجودہ دور کا اصل بحران نئی نسل کی دین سے دوری نہیں، بلکہ دین کی بامعنی اور مؤثر منتقلی کے نظام کا کمزور ہو جانا ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو تسلیم کر کے اپنی حکمتِ عملی کو حالات کے مطابق ڈھال لیں تو نہ صرف اس خلا کو پُر کیا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط فکری اور روحانی بنیاد بھی قائم کی جا سکتی ہے۔





















