یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، 1300 سے زائد اموات، سڑکیں پگھل گئیں، ٹرام سروس بند

یورپ میں اس وقت تقریباً 19 کروڑ افراد شدید گرمی سے متاثر ہیں، عالمی ادارہ صحت

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین )یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی غیر معمولی گرمی کی لہر کے نتیجے میں 21 جون سے اب تک ایک ہزار 300 سے زیادہ اضافی اموات سامنے آ چکی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے بتایا کہ یورپ میں اس وقت تقریباً 19 کروڑ افراد شدید گرمی سے متاثر ہیں۔ درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث بجلی کی ترسیل اور فراہمی کا نظام بھی شدید دباؤ میں آ گیا ہے۔

فرانسیسی حکام کے مطابق ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ پبلک ہیلتھ فرانس کا کہنا ہے کہ اموات میں یہ اضافہ 24 جون کے بعد دیکھنے میں آیا۔ مرنے والوں میں 85 فیصد افراد کی عمر 65 برس یا اس سے زیادہ تھی۔

ادھر جرمنی کے مشرقی شہر لائپزگ میں گرمی کی شدت سے سڑکوں پر بچھا اسفالٹ پگھل گیا، جس کے باعث مختلف مقامات پر ٹرام کی پٹڑیوں اور ان کے پوائنٹس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

لائپزگ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے موجودہ صورتِ حال میں ٹرام سروس چلانے کو غیر محفوظ قرار دیا ہے، تاہم شہر میں بسیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں جاری ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر اب محض موسمی شدت کا معاملہ نہیں رہی بلکہ ایک سنگین انسانی، طبی اور انتظامی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 21 جون سے اب تک ایک ہزار 300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ شدید گرمی کمزور، عمر رسیدہ اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اس بحران کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ تقریباً 19 کروڑ افراد شدید گرمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اتنی بڑی آبادی کا ایک ہی وقت میں غیر معمولی درجۂ حرارت کی زد میں آنا یورپی ممالک کے صحت عامہ، بجلی، ٹرانسپورٹ اور ہنگامی امداد کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال رہا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے، بجلی کی طلب میں اضافے اور روزمرہ شہری سرگرمیوں میں خلل کے امکانات ایسے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

فرانس میں ایک ہزار سے زائد اضافی اموات کا ریکارڈ ہونا خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔ پبلک ہیلتھ فرانس کے مطابق مرنے والوں میں 85 فیصد افراد کی عمر 65 برس یا اس سے زیادہ تھی۔ یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ شدید گرمی کے دوران بزرگ شہری سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کی درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے، جبکہ دل، پھیپھڑوں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے گرمی کے اثرات کہیں زیادہ مہلک ہو سکتے ہیں۔

اضافی اموات سے مراد یہ ہے کہ کسی مخصوص مدت میں معمول کے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ لوگوں کی موت واقع ہوئی۔ اگرچہ ان تمام اموات کو براہِ راست ہیٹ اسٹروک سے منسوب نہیں کیا جاتا، تاہم شدید گرمی دل کے امراض، سانس کی بیماریوں، پانی کی کمی اور پہلے سے موجود طبی مسائل کو بگاڑ سکتی ہے۔ اسی لیے ہیٹ ویو کے دوران اموات کا حقیقی اثر فوری طور پر سامنے آنے والے اعدادوشمار سے بھی زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔

یہ صورتحال اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید اور وسائل سے مالامال ممالک بھی شدید موسمی حالات کے سامنے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ یورپ میں صحت اور شہری سہولیات کا نظام دنیا کے بہتر نظاموں میں شمار ہوتا ہے، لیکن غیر معمولی گرمی نے وہاں بھی بجلی کی فراہمی، ٹرانسپورٹ اور شہری انفراسٹرکچر کی کمزوریاں نمایاں کر دی ہیں۔

جرمنی کے شہر لائپزگ میں سڑکوں کا اسفالٹ پگھلنے اور ٹرام کی پٹڑیوں اور پوائنٹس کے متاثر ہونے کا واقعہ اس بحران کے انتظامی اور معاشی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ ٹرام سروس کو غیر محفوظ قرار دینا صرف مسافروں کی آمدورفت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شہری ڈھانچہ مخصوص درجۂ حرارت کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا اور انتہائی گرمی اس کی برداشت سے تجاوز کر رہی ہے۔

ٹرام سروس میں تعطل سے ہزاروں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ مرمت، متبادل ٹرانسپورٹ اور انتظامی اقدامات پر اضافی اخراجات بھی آئیں گے۔ اگر اس قسم کی گرمی زیادہ عرصے تک جاری رہے یا بار بار لوٹ کر آئے تو شہروں کو سڑکوں، ریلوے لائنوں، عمارتوں اور بجلی کے نظام کے تعمیراتی معیار پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

بجلی کی فراہمی پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی ایک اہم خطرہ ہے۔ شدید گرمی میں ایئرکنڈیشنرز اور ٹھنڈک کے دیگر آلات کا استعمال بڑھ جاتا ہے، جس سے بجلی کی طلب اچانک کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسے میں بجلی کی بندش صرف گھریلو پریشانی نہیں رہتی بلکہ ہسپتالوں، بزرگوں کے مراکز، پانی کی فراہمی اور ضروری شہری خدمات کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

موجودہ بحران حکومتوں کے لیے یہ پیغام رکھتا ہے کہ ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے صرف ہنگامی بیانات کافی نہیں۔ بزرگوں، تنہا رہنے والے افراد، بے گھر شہریوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کی نشاندہی، ان سے باقاعدہ رابطہ، ٹھنڈے عوامی مراکز کا قیام، پینے کے پانی کی فراہمی اور طبی عملے کی اضافی تعیناتی ضروری ہے۔

اس کے ساتھ شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا ناگزیر ہے۔ دن کے گرم ترین اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز، مسلسل پانی پینا، براہِ راست دھوپ سے بچنا اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد پر خصوصی توجہ دینا جانیں بچا سکتا ہے۔

یورپ کی یہ جان لیوا ہیٹ ویو دنیا کے دیگر خطوں، خصوصاً شدید گرمی کا سامنا کرنے والے ممالک کے لیے بھی وارننگ ہے۔ کمزور صحت کے نظام، بجلی کی قلت اور محدود شہری سہولیات رکھنے والے ممالک میں ایسی گرمی کہیں زیادہ تباہ کن نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے گرمی کی لہروں کو معمول کا موسمی واقعہ سمجھنے کے بجائے انہیں صحت عامہ اور قومی سلامتی کے سنجیدہ خطرے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

مجموعی طور پر یورپ کا موجودہ بحران یہ بتاتا ہے کہ شدید گرمی صرف درجۂ حرارت میں اضافے کا نام نہیں، بلکہ اس کے اثرات انسانی جان، معیشت، توانائی، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی کے ہر شعبے تک پھیل سکتے ہیں۔ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے ہونے والے جانی نقصان کو کم کرنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی، مضبوط انفراسٹرکچر اور کمزور طبقات کے تحفظ پر خصوصی توجہ ناگزیر ہو گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین