چین میں شانجیاباؤ کے قدیم قبرستان سے تقریباً 2,300 سال پرانی شراب سے بھرا ہوا ایک محفوظ شدہ جار دریافت ہوا ہے، جس نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
یہ قدیم شراب ’کِن گریٹ وال‘ (Qin Great Wall) سے تقریباً 2 کلومیٹر دور واقع شانجیاباؤ کے قبرستان سے دریافت ہوئی۔ کِن گریٹ وال موجودہ دیوارِ چین کے بنیادی حصوں میں شمار ہوتی ہے اور اسے چین میں تعمیر کی جانے والی قدیم ترین عظیم دیواروں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔
کِن گریٹ وال کی تاریخ تقریباً 2,300 سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ اس قدیم دیوار کا ذکر سابق چینی رہنما ماؤ زے تنگ نے بھی اکتوبر 1935 میں ریڈ آرمی کے لانگ مارچ کے دوران گیوان، گانسو میں لیوپن پہاڑوں سے گزرتے ہوئے اپنی ایک نظم میں کیا تھا۔
قدیم قبرستان سے حیران کن دریافت
جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دریافت ہونے والا جار قدیم متحارب ریاستوں کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ جار مکمل طور پر مہربند حالت میں ملا اور اس کی سطح اب تک چمکدار تھی، جس سے اس کے غیر معمولی طور پر محفوظ رہنے کا اندازہ ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق ہزاروں سال پرانے اس برتن میں موجود شراب کی دریافت قدیم چینی معاشرے میں خوراک، اناج کے استعمال اور مشروبات تیار کرنے کے طریقوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔
نارتھ ویسٹ یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی امیدوار اور تحقیق کے پہلے مصنف چن رورو کے مطابق یہ مطالعہ قدیم لوگوں کے اناج کے استعمال اور پینے کی تکنیکوں کو سمجھنے میں واضح مدد فراہم کرتا ہے۔
قدیم شراب نے ماہرین کی توجہ کیوں حاصل کی؟
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے ہزاروں سال پرانی کسی مائع چیز کا محفوظ حالت میں دریافت ہونا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ایسی اشیا عموماً خراب یا ختم ہو جاتی ہیں۔
شانجیاباؤ کے قبرستان سے ملنے والا یہ جار نہ صرف قدیم متحارب ریاستوں کے دور کی زندگی کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ اس زمانے میں شراب سازی اور اناج کے استعمال کے طریقوں کو سمجھنے کے لیے بھی ایک اہم ثبوت تصور کیا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق 2,300 سال پرانی شراب کا محفوظ حالت میں دریافت ہونا محض ایک قدیم مشروب کی دریافت نہیں بلکہ اس دور کے انسانی معاشرے، خوراک اور روزمرہ زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تاہم اس دریافت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس میں موجود مشروب کی مکمل نوعیت اور تیاری کے طریقۂ کار کے بارے میں حتمی رائے قائم کی جا سکے گی۔
عوامی رائے
قدیم دور سے تعلق رکھنے والی اس غیر معمولی دریافت نے تاریخ اور آثارِ قدیمہ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی توجہ حاصل کی ہے۔ خاص طور پر ہزاروں سال پرانی شراب کا محفوظ حالت میں ملنا سوشل میڈیا صارفین اور تاریخ کے شائقین کے لیے حیرت کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق آثارِ قدیمہ سے ملنے والی ایسی اشیا قدیم تہذیبوں کے طرزِ زندگی کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ شراب سے متعلق یہ دریافت قدیم چین میں اناج کے استعمال، خوراک اور مشروبات کی تیاری کے حوالے سے مزید تحقیق کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے۔
شانجیاباؤ کے قبرستان سے ملنے والا 2,300 سال پرانا جار اس بات کی یاد دہانی ہے کہ آثارِ قدیمہ میں چھپی معمولی نظر آنے والی اشیا بھی قدیم تہذیبوں کے بارے میں غیر معمولی معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔ ایسی دریافتیں تاریخ کے ان پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں جو تحریری ریکارڈ میں محفوظ نہیں رہ سکے۔
میری رائے میں ہزاروں سال پرانی شراب کا اس قدر محفوظ حالت میں ملنا واقعی ایک غیر معمولی آثارِ قدیمہ کی دریافت ہے۔ اس دریافت کی مزید سائنسی جانچ سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ قدیم چینی معاشرے میں اناج سے مشروبات کس طرح تیار کیے جاتے تھے اور اس دور کے لوگوں کی خوراک اور پینے کی عادات کیا تھیں۔





















