خواتین ایتھلیٹس کی غیر مناسب زاویوں سے ویڈیو اور تصاویر بنانے پر پابندی

یورپی براڈکاسٹنگ یونین نے کھیلوں کی یورپی تنظیم ’’یورپی ایتھلیٹکس‘‘ کے اشتراک سے خواتین کے ایتھلیٹکس مقابلوں کی براہِ راست نشریات کے لیے نئی رہنما ہدایات جاری کردی ہیں

لاہور( خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)یورپی براڈکاسٹنگ یونین نے کھیلوں کی یورپی تنظیم ’’یورپی ایتھلیٹکس‘‘ کے اشتراک سے خواتین کے ایتھلیٹکس مقابلوں کی براہِ راست نشریات کے لیے نئی رہنما ہدایات جاری کردی ہیں۔ ان ہدایات کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیلی وژن سکرین پر خواتین کھلاڑیوں کی جسمانی ساخت کے بجائے ان کی صلاحیت، محنت، مہارت اور کھیل میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو نمایاں کیا جائے۔

’’ریزنگ دی بار‘‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی یہ ہدایات خواتین ایتھلیٹس، نشریاتی ماہرین اور کھیلوں سے وابستہ پیشہ ور افراد کی مشاورت سے تیار کی گئی ہیں۔ ان میں نشریاتی اداروں، کیمرا آپریٹرز، ہدایت کاروں اور تدوین کاروں کو بتایا گیا ہے کہ مقابلوں کی عکس بندی کرتے ہوئے کن زاویوں اور مناظر سے گریز ضروری ہے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو زیادہ مؤثر اور باوقار انداز میں کس طرح پیش کیا جاسکتا ہے۔

نئی ہدایات کے مطابق خواتین کھلاڑیوں کے جسم کے مخصوص حصوں پر دیر تک کیمرہ مرکوز رکھنے، انتہائی قریب سے مناظر دکھانے، ایسے زاویوں میں عکس بندی کرنے جن سے کھلاڑی نامناسب انداز میں دکھائی دیں اور بلا ضرورت سست رفتار مناظر بار بار نشر کرنے سے گریز کیا جائے۔

خصوصاً ہائی جمپ اور پول والٹ جیسے مقابلوں میں ایسے کیمروں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے جو کھلاڑی کے نیچے، عقب یا لینڈنگ کے مقام پر اس انداز سے نصب ہوں کہ اصل کھیل اور تکنیک کے بجائے جسمانی حرکات نمایاں ہونے لگیں۔ اسی طرح دوڑ کے آغاز، مقابلہ مکمل ہونے کے بعد تھکن کی حالت یا کھلاڑی کے زمین پر بیٹھنے اور لیٹنے کے لمحات میں بھی کیمرے کے انتخاب میں احتیاط برتنے کی سفارش کی گئی ہے۔

تاہم ہدایات میں سست رفتار مناظر کے استعمال کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔ واضح کیا گیا ہے کہ اگر سلو موشن ری پلے کسی کھلاڑی کی چھلانگ، رفتار، قدموں کی ترتیب، توازن یا فنی مہارت سمجھانے میں مدد دیتا ہو تو اسے ضرور دکھایا جاسکتا ہے۔ اصل اصول یہ ہے کہ ہر منظر کھیل کی تفہیم میں اضافہ کرے، محض جسمانی نمائش کا ذریعہ نہ بنے۔

خواتین کھلاڑیوں کے تلخ تجربات

برطانیہ کی اولمپک کانسی کا تمغہ جیتنے والی پول والٹر ہولی بریڈشا بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کی آرا اور تجربات سے یہ ہدایات مرتب کرنے میں مدد لی گئی۔ ان کے مطابق بعض مقابلوں میں غیر مناسب کیمرا زاویوں اور بلا ضرورت سست رفتار مناظر کے باعث ایسی ویڈیوز تیار ہوئیں جنہیں بعد میں سیاق و سباق سے الگ کرکے سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔

ہولی بریڈشا نے بتایا کہ اس طرح کے مناظر کی وجہ سے انہیں آن لائن ہراسانی اور نامناسب تبصروں کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی کہ بعض اوقات کھلاڑی اپنی کارکردگی پر مکمل توجہ دینے کے بجائے یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ کیمرا انہیں کس زاویے سے دکھا رہا ہوگا۔

سربیا کی سابق عالمی چیمپئن لانگ جمپر ایوانا اسپانووچ نے بھی اس مسئلے کو کھلاڑیوں کے وقار، ذہنی سکون اور کھیل میں مساوی برتاؤ سے منسلک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق غیر مناسب عکس بندی نہ صرف مقابلے کے دوران بے چینی اور توجہ میں خلل پیدا کرتی ہے بلکہ ایسی تصاویر اور ویڈیوز کا بار بار پھیلایا جانا کھلاڑیوں کی ذہنی صحت پر طویل مدتی منفی اثرات بھی مرتب کرسکتا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ نشریاتی ادارے کشادہ اور فضائی زاویوں، معلوماتی خاکوں اور جدید بصری تکنیکوں سے فائدہ اٹھائیں۔ اس طرح ناظرین کو کھلاڑی کی جسمانی ساخت کے بجائے اس کی رفتار، چھلانگ، قدموں کی ترتیب اور فنی مہارت بہتر انداز میں سمجھائی جاسکتی ہے۔

یورپی ایتھلیٹکس کے صدر ڈوبریمیر کرامارینوف کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خواتین کھلاڑیوں کی نقصان دہ عکاسی ختم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق باوقار عکس بندی اختیار کرتے ہوئے بھی نشریات کا فنی معیار، دلچسپی اور کہانی بیان کرنے کی قوت برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ یورپی ایتھلیٹکس اور ای بی یو کی ہدایات کی تفصیل

ان رہنما اصولوں پر 10 سے 16 اگست 2026ء تک برمنگھم میں ہونے والی یورپی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کی نشریات کے دوران عمل کیے جانے کی توقع ہے۔ فی الحال یہ سفارشات ہیں، باقاعدہ پابندیوں کی فہرست نہیں، تاہم انہیں مستقبل کی کھیلوں کی نشریات کے لیے ایک اہم اخلاقی معیار قرار دیا جا رہا ہے۔ رہنما دستاویز اور چیمپئن شپ کی تفصیل

یہ ہدایات جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ڈیجیٹل دور میں ٹیلی وژن پر دکھایا جانے والا کوئی منظر صرف چند لمحوں تک محدود نہیں رہتا۔ اسے کاٹ کر، سست رفتار بنا کر یا اصل پس منظر سے الگ کرکے چند ہی منٹوں میں سماجی رابطوں کے مختلف ذرائع پر پھیلایا جاسکتا ہے۔ خواتین کھلاڑیوں کے بعض مناظر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ کھیل کی تکنیک دکھانے کے نام پر بنائے گئے مخصوص زاویوں کو بعد میں نامناسب ویڈیوز اور تضحیک آمیز مواد میں تبدیل کیا گیا۔

اس مسئلے کے نتیجے میں تین بنیادی خدشات سامنے آئے:

کھلاڑی کی کامیابی، مہارت اور محنت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
غیر مناسب عکس بندی آن لائن ہراسانی اور نامناسب مواد کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے۔
کیمروں کا خوف کھلاڑیوں کی توجہ، ذہنی سکون اور میدان میں کارکردگی متاثر کرسکتا ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ محض چند کیمرا زاویوں کو تبدیل کرنے کا نہیں بلکہ کھیلوں کی نشریات میں موجود ایک دیرینہ رویے کی اصلاح کا ہے۔ مرد کھلاڑیوں کو عموماً ان کی طاقت، رفتار، حکمتِ عملی اور تکنیکی مہارت کے حوالے سے دکھایا جاتا ہے، جبکہ خواتین کھلاڑیوں کی کوریج میں بعض اوقات ان کی جسمانی ساخت غیر ضروری طور پر نمایاں ہوجاتی ہے۔ یہی فرق کھیل میں صنفی برابری کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔

نئی ہدایات کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ انہیں خواتین کھلاڑیوں کے حقیقی تجربات سننے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ اس سے یہ اعتراف سامنے آتا ہے کہ کیمرے کا زاویہ کبھی مکمل طور پر غیر جانب دار نہیں ہوتا؛ وہ یہ طے کرتا ہے کہ ناظر کھلاڑی کو ایک باصلاحیت پیشہ ور کے طور پر دیکھے گا یا محض ایک جسمانی منظر کے طور پر۔

باوقار عکس بندی سے کھیل کی دلچسپی کم نہیں ہوگی بلکہ اس کا اصل حسن مزید نمایاں ہوگا۔ ناظرین بہتر طور پر سمجھ سکیں گے کہ ایک کامیاب چھلانگ کے پیچھے کتنی مشق، درست قدموں، جسمانی توازن اور لمحے کے انتہائی باریک انتخاب کا دخل ہوتا ہے۔

یہ اقدام کھیلوں کی دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے: خاتون ایتھلیٹ کی شناخت اس کے جسمانی خدوخال نہیں بلکہ اس کی محنت، مہارت، قوتِ ارادی اور کامیابی ہے—اور کیمرے کو بھی یہی حقیقت دکھانی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین