سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے کاروں، سگریٹ اور الیکٹرانکس پر اضافی ٹیکس کی تجویز

یہ منی بجٹ سیلاب کی بحالی کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا ذریعہ بنے گا

 پاکستان کی معیشت ایک نئی آزمائش سے گزر رہی ہے جہاں سیلاب کی تباہ کاریوں نے نہ صرف لاکھوں جانیں برباد کی ہیں بلکہ خزانے پر بھی بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت ایک منی بجٹ کی تیاری میں مصروف ہے، جس کا بنیادی ہدف سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے کم از کم 50 ارب روپے اکٹھے کرنا ہے۔ یہ منصوبہ امیروں کی جیبوں کو نشانہ بناتا ہے، جہاں کاروں، سگریٹوں اور الیکٹرانک اشیا پر اضافی ٹیکسوں اور لیویوں کی تجاویز زیر غور ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف ٹیکس خسارے کو پورا کرنے کی کوشش ہیں بلکہ ایک ایسے سماجی توازن کی بھی کوشش جو غریبوں کی تکلیف کو امیر طبقے کی مدد سے کم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

منی بجٹ کی بنیادی حکمت عملی

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منی بجٹ سیلاب کی بحالی کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا ذریعہ بنے گا، جس میں کاروں، سگریٹوں اور الیکٹرانک سامان جیسے اشیا کو ہدف بنایا جائے گا جو عام طور پر خوشحال طبقے کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ جون میں بجٹ کے ذریعے ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں کی گئی کمیوں کو بھرنے کے لیے 1,100 سے زائد درآمد شدہ اشیا پر وفاقی لیوی عائد کرنے کا منصوبہ بھی زیر بحث ہے۔ اگر وزیراعظم شہباز شریف اسے ہری جھنڈی دکھاتے ہیں تو یہ نہ صرف محصولات کی کمی کو کم کرے گا بلکہ سیلاب متاثرین کے لیے فوری امداد کا ذریعہ بھی بنے گا۔ تاہم، ریلیف اور ریسکیو کے بیشتر کام صوبائی سطح پر ہی ہو رہے ہیں، جو وفاقی ذمہ داریوں پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں۔

خزانہ کی منگل کی میٹنگ

یہ تمام تجاویز منگل کے روز وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سامنے آئیں، جہاں فلڈ لیوی بل کے ممکنہ خاکے پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اجلاس میں اضافی آمدنی کی مقدار، شرح اور متاثرہ اشیا کی فہرست کا حتمی تعین ابھی باقی ہے، مگر کم از کم 50 ارب روپے کا ہدف طے کیا گیا ہے جو حالات کے مطابق مزید بڑھ سکتا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جولائی سے اگست تک 40 ارب روپے کا ٹیکس خسارہ ریکارڈ ہوا، جو اس ماہ کے آخر تک 100 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 9 فیصد اضافہ ہونے کے باوجود وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

 الیکٹرانک، سگریٹ اور کاروں پر بھاری لیوی

ذرائع کے مطابق، حکومت ایک 5 فیصد لیوی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے جو مخصوص قیمت کی حد سے اوپر والے الیکٹرانک سامان پر لاگو ہوگی، جیسے کہ مہنگے موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر گیجٹس۔ اسی طرح، ہر برانڈ اور قیمت سے قطع نظر ہر سگریٹ کے پیکٹ پر 50 روپے کی لیوی لگانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جو تمباکو نوش طبقے پر براہ راست اثر ڈالے گی۔ ٹیکس کے برعکس، یہ لیوی وفاقی آمدنی کا حصہ ہوگی اور ایف بی آر کے مجموعی محصولات میں شامل نہ ہوگی، مگر غیر ٹیکس محصولات کی اس اضافے سے ایف بی آر کے خسارے کو توازن دیا جا سکتا ہے۔

ایک اور اہم تجویز مخصوص انجن کیپسٹی سے زائد کاروں پر لیوی کا ہے، جہاں ممکنہ طور پر 1800 سی سی اور اس سے بڑی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انڈس موٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی اصغر جمالی نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ گاڑیوں کی قیمتیں حکومت کے بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے پہلے ہی کل قیمت کا 30 سے 61 فیصد تک پہنچ چکی ہیں، جو اس نئی لیوی سے مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اسی طرح، جون کے بجٹ میں تقریباً 1150 اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں کی گئی کمیوں کو واپس بھرنے کے لیے انہی اشیا پر اتنی ہی شرح کی لیوی لگانے کا منصوبہ بھی زیر بحث ہے۔ اجلاس میں وفاقی لیوی کی آئینی حیثیت پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، جو اس بل کی قانونی بنیاد کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔

آئی ایم ایف اور دیگر چیلنجز

یہ تجاویز آئی ایم ایف کے مالیاتی اہداف کو متاثر کر سکتی ہیں، خاص طور پر جب کہ فنڈ نے حال ہی میں جناح میڈیکل کمپلیکس اسلام آباد کی تعمیر کے لیے 213 ارب روپے کے مجوزہ میونسپل ٹیکس منصوبے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے ترجمانوں نے حکومتی منصوبوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جو اس معاملے کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ آئی ایم ایف کی آنے والی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کی جائزہ مشن میں پاکستان کی سیلاب خرچ اور بجٹ کی لچک کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جو اس منی بجٹ کی منظوری کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

یہ منی بجٹ کی تجاویز پاکستان کی معاشی پالیسیوں میں ایک دلچسپ توازن کی کوشش دکھاتی ہیں، جہاں سیلاب جیسی قدرتی آفات کی بحالی کو امیر طبقے کی مدد سے جوڑنے کا ارادہ ہے، مگر یہ اقدامات کئی چیلنجز سے بھرپور ہیں۔ ایک طرف تو یہ لیویاں فوری فنڈز اکٹھے کرنے کا ایک موثر ذریعہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر جب ٹیکس خسارہ 100 ارب روپے تک پہنچنے کا خطرہ ہے، لیکن دوسری طرف سگریٹ جیسی اشیا پر لیوی غریب اور امیر دونوں کو متاثر کرے گی، جو ‘امیروں سے پیسہ لے کر غریبوں کی مدد’ کے بیانیے کو کمزور کر سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کی موجودہ شرائط کے تحت، جہاں تجارت کی لبرلائزیشن کو واپس نہ لیا جا سکتا، یہ لیویاں اہداف کو چیلنج کر سکتی ہیں اور آنے والی جائزہ بات چیت کو مشکل بنا دیں گی۔ مزید برآں، کاروں اور الیکٹرانک اشیا پر اضافی بوجھ معیشت کی بحالی کو سست کر سکتا ہے، جیسا کہ انڈسٹری کے ماہرین پہلے ہی ٹیکسوں کی موجودہ شرح پر تنقید کر چکے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ منصوبہ ایک مثبت قدم ہے مگر اس کی کامیابی کا انحصار حتمی شرحوں، آئینی جواز اور عالمی دباؤ پر ہے—اگر یہ متوازن رہا تو سیلاب متاثرین کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے، ورنہ معاشی عدم استحکام کو مزید گہرا کر دے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین