پاکستانی شوبز کی جھلملاتی ستارہ ہانیہ عامر کا بنگلادیشی دورہ ایک یادگار ثقافتی تبادلے میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں انہوں نے مقبول یوٹیوب اسٹار افتخار رفسان کے گھر پہنچ کر نہ صرف گھریلو ماحول کا لطف اٹھایا بلکہ میزبان خاندان کی روایتی خوش ذائقہ پکوانوں سے بھی دل بہلایا۔ یہ دلچسپ ملاقات ایک ویڈیو کی شکل میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی، جو محض چند گھنٹوں میں ایک ملین سے زائد ویوز حاصل کر چکی ہے اور دونوں ممالک کے شائقین کے درمیان گرمجوشی کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
بنگلادیش کا پروموشنل دورہ
ہانیہ عامر اس وقت بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں سُنسلک کی پروموشنل تقریبات میں شرکت کے لیے موجود ہیں، جہاں انہیں ہزاروں مداحوں کی طرف سے بے حد محبت اور احترام ملا ہے۔ ان کے اس دورے کا ایک اہم حصہ افتخار رفسان کی طرف سے کی گئی خصوصی دعوت تھی، جو بنگلادیش کے سب سے مقبول یوٹیوب چینلز میں سے ایک ‘رفسان دی چھوٹو بھائی’ کے مالک ہیں۔ افتخار، جو اپنے دلچسپ فلمیں، فوڈ وی لاگنگ اور ثقافتی مواد کی وجہ سے مشہور ہیں، نے ہانیہ کو اپنے گھر بلایا جہاں ان کی والدہ نے ذاتی طور پر روایتی بنگالی کھانوں کی تیاری کی تھی۔
ویڈیو میں ہانیہ کو ایک روایتی گلابی رنگ کی ہلکی پھولوں والی شروانی میں دیکھا جا سکتا ہے، جو ان کی سادگی اور خوبصورتی کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوئیں، افتخار اور ان کی والدہ نے ان کا گرمجوشانہ استقبال کیا۔ ہانیہ نے فوراً ہی خاندان کے ساتھ گرمجوشی سے بات چیت شروع کر دی، اور میز پر بیٹھ کر چاول، شامی کباب، مچھلی کی تازہ تھیک اور دیگر مقامی پکوانوں کا مزہ لیا۔ ان کی مسکراہٹ اور کھلے پن نے پورے ماحول کو خوشگوار بنا دیا، جہاں وہ میزبانوں کی مدد کرتے ہوئے بھی نظر آئیں۔
گلاب جامن کا جادو
ملاقات کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب ہانیہ نے بنگلادیشی گلاب جامن کا ذائقہ چکھا۔ اس قدر انہیں یہ میٹھا پسند آیا کہ انہوں نے ہنستے ہوئے افتخار سے پوچھا، "کیا میں کچھ گلاب جامن پاکستان لے جا سکتی ہوں؟ پاکستان میں تو ایسا کبھی نہیں کھایا!” یہ مزاحیہ بات چیت ویڈیو کا سب سے وائرل پارٹ بن گئی، جس نے ناظرین کو ہنسی سے دوہراتے چھوڑ دیا۔ افتخار نے بھی ہانیہ کی شخصیت کی تعریف کی، کہتے ہوئے کہ "وہ حقیقی زندگی میں بھی ویسے ہی خوش مزاج اور زندہ دل ہیں جیسے سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں۔ وہ فوراً ہی سب کے ساتھ جڑ جاتی ہیں۔”
ہانیہ نے بنگلادیش کے بارے میں اپنے پہلے تاثرات بھی شیئر کیے، کہتے ہوئے کہ "یہ جگہ پاکستان کی طرح لگتی ہے – قریب سے گھر جیسی۔” اس کے علاوہ، انہوں نے افتخار کی والدہ سے خصوصی طور پر بات کی، جو ان کی گرمجوشی کی وجہ سے ویڈیو کی ہیروئن بن گئیں۔ ہانیہ نے خاندان کے ساتھ گھریلو کہانیاں سنیں، ہنسی مذاق کیا اور یہ سب کچھ ایک ایسے ماحول میں جہاں دونوں ممالک کی ثقافتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی نظر آئیں۔
سوشل میڈیا پر طوفان
افتخار رفسان نے یہ پوری ملاقات اپنے یوٹیوب چینل پر ایک وی لاگ کی شکل میں اپ لوڈ کیا، جو تیزی سے وائرل ہو گیا۔ ، ، ، ، ، ، ، ، ۔ اب تک اس ویڈیو کو ایک ملین سے زائد ویوز مل چکے ہیں، جبکہ انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ہزاروں کمنٹس اور شیئرز کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی اور بنگلادیشی شائقین نے ہانیہ کی سادگی، افتخار کی مہمان نوازی اور خاص طور پر رفسان کی والدہ کی ماں جیسی محبت کی بے حد تعریف کی ہے۔
ایک بنگلادیشی فین نے لکھا، "ہانیہ ویڈیو میں اتنی سادہ اور پیاری لگ رہی ہیں، مجھے انہیں گلے لگانا چاہیے!” ایک پاکستانی مداح نے کہا، "رفسان نے بنگلادیشی ثقافت اور کھانوں کو ہانیہ سے متعارف کروا کر سب کو خوش کر دیا۔” دوسرے نے مزاحیہ انداز میں پوچھا، "ہانیہ نے گلاب جامن لے جانے کی اجازت کیوں نہ دی؟” [post:0]۔ یہ ردعمل نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی قربت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ ہانیہ کی عالمی شہرت کی ایک اور مثال بھی قائم کر رہے ہیں۔
ہانیہ نے خود بھی انسٹاگرام پر اس ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں، جن میں وہ مقامی پھولوں سے سجے ہوئے، کتابیں پڑھتے ہوئے اور ڈھاکہ کی گلیوں میں رکشہ سوارتے دکھائی دیں۔ ان کی یہ پوسٹس بھی ہزاروں لائکس اور کمنٹس حاصل کر چکی ہیں، جہاں مداح ان کی بنگلادیشی ثقافت کی طرف دلچسپی اور ان کی خوش مزاج شخصیت کی تعریف کر رہے ہیں۔
ثقافتی پل
یہ ملاقات محض ایک دعوت سے کہیں آگے بڑھ کر ایک خوبصورت ثقافتی تبادلے کی مثال بن گئی ہے۔ ہانیہ، جو ‘مریعم’، ‘کاشف’ اور ‘سر دار جی 3’ جیسی فلموں سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکی ہیں، نے بنگلادیشی کھانوں اور روایات کو اپنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ افتخار رفسان، جو اپنے 10 ملین سے زائد سبسکرائبرز والے چینل پر بنگلادیش کی ثقافت کو پیش کرتے ہیں، نے اس موقع کو ایک یادگار وی لاگ میں تبدیل کر دیا۔
اس دورے کے دوران ہانیہ نے دیگر سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا، جیسے احسن منزل کی زیارت، مقامی مارکیٹس کی سیر اور شائقین کے ساتھ ملاقاتیں۔ انہوں نے بنگلادیشی ہیرو شاکب خان کو اپنا پسندیدہ اداکار قرار دے کر بھی سرخیاں بٹوریں، جو ان کی مقامی شائقین کو خوش کرنے کی کوشش تھی۔
اہم لمحات کا خلاصہ جدول
| لمحہ | تفصیلات |
|---|---|
| استقبال | افتخار اور والدہ کا گرمجوشانہ خوش آمدید، ہانیہ کی روایتی لباس میں خوبصورتی |
| کھانوں کا مزہ | چاول، شامی کباب، مچھلی اور گلاب جامن – ہانیہ کی مزاحیہ درخواست |
| خاندانی بات چیت | والدہ سے خصوصی گفتگو، ہنسی مذاق اور گھریلو کہانیاں |
| ویڈیو کا اثر | 1 ملین+ ویوز، پاک-بنگلادیشی شائقین کی تعریف اور کمنٹس |
| ثقافتی جھلک | بنگلادیشی روایات کی تعریف، پاکستان سے مشابہت کا اظہار |
ہانیہ کی مقبولیت کا نیا موڑ اور ثقافتی رشتے
ہانیہ عامر کی یہ ملاقات ایک ایسے دور کی نشاندہی کرتی ہے جہاں شوبز اسٹارز نہ صرف تفریح بلکہ ثقافتی پل بھی بن رہے ہیں۔ ان کی سادگی اور کھلے پن نے بنگلادیشی مداحوں کو فتح کر لیا ہے، جو ان کی ویڈیوز کو دیکھ کر پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت محسوس کر رہے ہیں۔ افتخار رفسان جیسی شخصیتوں کے ساتھ ایسے تعاون سے نئی نسلیں ایک دوسرے کی ثقافت سے روشناس ہو رہی ہیں، جو جنوبی ایشیا کی یونیٹی کو مضبوط بناتا ہے۔
تاہم، یہ وائرل لمحات ہانیہ کی عالمی شہرت کی مزید تصدیق بھی کرتے ہیں – ایک ایسی اداکارہ جو پردے سے نکل کر حقیقی زندگی میں بھی لوگوں کے دلوں کو چھوتی ہیں۔ اگر ایسے مزید ثقافتی تبادلے ہوتے رہے تو پاک-بنگلا تعلقات میں نئی گرمجوشی آ سکتی ہے، اور ہانیہ جیسی ستارے اس کی راہنمائی کر سکتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ سوشل میڈیا آج کل ثقافت کو جوڑنے کا سب سے طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، جہاں ایک گلاب جامن کی کہانی بھی لاکھوں دلوں کو چھو سکتی ہے۔





















