جنگ بند کروانے پر مبارکباد، اب پٹرول سستا کیا جائے:خرم نواز گنڈاپور

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ واپس لیا جائے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ جنگ بند کروانے ا ور کامیاب سفارتکاری پر ریاست پاکستان کو مبارکباد ،اب پٹرول کی پرانی قیمتیں بحال کی جائیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سب سے زیادہ پٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والے خطہ کے دو برادر اسلامی ملک پاکستان کی سفارت کاری اور خصوصی تعاون پر بہت خوش ہیں۔

اس خوشی کے ثمرات سے تاحال پاکستان کے کروڑوں کم آمدنی والے شہری محروم کیوں ہیں؟ کامیاب سفارت کاری کے نعروں کی گونج سے غریب پاکستانیوں کے پیٹ نہیں بھر سکتے، اب بند راستے بھی کھل گئے، عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں پرانی قیمتیں فوراً بحال ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ عام آدمی بمشکل جسم اور جان کا رشتہ قائم رکھے ہوئے ہے ۔

عالمی سطح پر بحران اتنا بڑا نہیں تھا جتنا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یوں لگتا ہے فوری مہنگائی کرنے کا کوئی جواز ڈھونڈا گیا؟۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمتوں کو 250روپے فی لیٹر پر فوری بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف پٹرول مہنگا نہیں ہے بلکہ بجلی اور گیس بھی غائب ہے۔ حکومت 25کروڑ عوام کی بنیادی ضروریات کو سنجیدگی سے لے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ خرم نواز گنڈاپور کے بیان نے پاکستان میں مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور عوامی معاشی دباؤ کے مسئلے کو ایک بار پھر بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے جنگ بندی اور بہتر سفارت کاری پر ریاست پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی پرانی قیمتیں بحال کی جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر حالات میں بہتری اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں عام آدمی اس کے ثمرات سے محروم ہے، جو ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے کہ آخر اس بہتری کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا۔

اس مؤقف کے مطابق پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ شدید ہے، وہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ ہونا عوامی مشکلات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غریب شہری پہلے ہی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور مہنگائی کے اس ماحول میں “سفارت کاری کی کامیابی” کے نعرے ان کے لیے عملی ریلیف کا متبادل نہیں بن سکتے۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں اگر قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو پاکستان میں بھی فوری طور پر پٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر کی سابقہ سطح پر لائی جانی چاہیے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔

عوامی سطح پر دیکھا جائے تو صورتحال واقعی تشویشناک ہے کیونکہ مہنگائی صرف پٹرول تک محدود نہیں رہی بلکہ بجلی، گیس اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر پورے معاشی ڈھانچے پر پڑتا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، پیداوار اور اشیائے خورونوش سب متاثر ہوتے ہیں۔ نتیجتاً عام شہری کی قوت خرید کمزور ہو جاتی ہے اور زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

سیاسی طور پر ایسے بیانات عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں کیونکہ مہنگائی کے ماحول میں عوام فوری ریلیف چاہتے ہیں۔ تاہم معاشی پالیسیاں جذبات کے بجائے طویل مدتی اثرات کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔ اس لیے ایک طرف عوامی دباؤ اور سیاسی مطالبات ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف ریاستی مالی ذمہ داریاں اور عالمی معاشی تقاضے ہوتے ہیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں صرف قیمتوں کے فیصلوں پر نہیں بلکہ بنیادی اصلاحات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر پیداوار، ترسیل اور مالی نظام کو بہتر نہ کیا گیا تو قیمتوں میں وقتی کمی مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکے گی۔ اصل ضرورت ایک ایسی جامع حکمت عملی کی ہے جو عوامی ریلیف اور معاشی استحکام دونوں کے درمیان توازن قائم کر سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین