(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ماہرین کے مطابق کم عمری میں تیراکی سیکھنا بچوں کی مجموعی نشوونما میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ صرف ایک کھیل یا ہنر نہیں بلکہ ذہنی، جسمانی اور سماجی ترقی کا ایک مکمل ذریعہ ہے، جو بچوں کی شخصیت کو متوازن انداز میں پروان چڑھاتا ہے۔
تحقیقی جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو بچے کم عمر میں تیراکی سیکھتے ہیں وہ نہ صرف جسمانی طور پر زیادہ مضبوط ہوتے ہیں بلکہ زبان سیکھنے، خوداعتمادی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت میں بھی دوسروں سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، کیونکہ پانی میں سرگرمیاں دماغی نشوونما کو تیز کرتی ہیں اور سیکھنے کے عمل کو مؤثر بناتی ہیں۔
تیراکی بچوں کے سماجی رویوں پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے، خاص طور پر وہ بچے جو دوسروں سے گھلنے ملنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، گروپ میں تیراکی سیکھنے کے دوران آہستہ آہستہ اعتماد حاصل کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنا سیکھتے ہیں، جبکہ خصوصی بچوں میں بھی اس سرگرمی کے ذریعے رویوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔
جسمانی طور پر تیراکی ایک ایسی ورزش ہے جس میں پورا جسم متحرک رہتا ہے مگر کسی ایک حصے پر غیر ضروری دباؤ نہیں پڑتا، جس کے باعث پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، جسم میں لچک پیدا ہوتی ہے اور چوٹ لگنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سانس لینے کی درست تکنیک سیکھنے سے دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے، جو مجموعی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔
ذہنی اور جذباتی لحاظ سے بھی تیراکی بچوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے کیونکہ پانی میں وقت گزارنے سے دماغ میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، یادداشت اور توجہ میں اضافہ ہوتا ہے اور بچے ذہنی دباؤ سے بھی کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ تیراکی کو ایک قدرتی ذہنی سکون دینے والی سرگرمی بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیراکی بچوں کو نظم و ضبط، خود اعتمادی اور مشکل حالات میں خود کو سنبھالنے کا ہنر بھی سکھاتی ہے، اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو کم عمری میں ہی اس مہارت سے روشناس کروائیں تاکہ وہ نہ صرف صحت مند بلکہ ذہنی طور پر مضبوط اور سماجی طور پر متوازن شخصیت کے حامل بن سکیں۔





















