کراچی: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)معروف ٹک ٹاکر Kashif Zameer کے خلاف ایک اور مبینہ فراڈ کیس سامنے آگیا ہے، جس میں ان پر محکمہ انسداد دہشت گردی کے ایک اہلکار سے لاکھوں روپے ہتھیانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی میں تعینات اہلکار دوست محمد نے الزام لگایا ہے کہ کاشف ضمیر نے انہیں بیرون ملک، خصوصاً اٹلی بھجوانے کا جھانسہ دے کر تقریباً 19 لاکھ روپے وصول کیے، تاہم رقم لینے کے بعد نہ تو وعدہ پورا کیا گیا اور نہ ہی بعد میں رابطہ برقرار رکھا گیا، بلکہ ایک سال گزرنے کے بعد ان کا فون بھی بند کر دیا گیا۔
درخواست گزار کے مطابق دونوں کے درمیان دوستی ٹک ٹاک کے ذریعے ہوئی تھی اور بعد ازاں کاشف ضمیر ان کے پاس کراچی میں قیام بھی کرتے رہے، جس کے باعث اعتماد قائم ہوا، تاہم بعد میں یہی اعتماد مبینہ طور پر فراڈ میں تبدیل ہو گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ اہلکار کی درخواست پر تھانہ گلبرگ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے ڈیفنس میں واقع رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا، تاہم تاحال گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا کی تیزی سے بڑھتی دنیا میں ایسے واقعات ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آن لائن تعلقات اور وعدوں پر کس حد تک بھروسہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ بظاہر سادہ روابط بعض اوقات مالی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب معاملات ذاتی اعتماد اور غیر رسمی وعدوں پر مبنی ہوں۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہونے والی دوستیوں میں احتیاط نہ برتی جائے تو قانونی پیچیدگیاں اور مالی نقصان دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے عوام کو چاہیے کہ کسی بھی مالی لین دین سے قبل مکمل تصدیق اور قانونی تحفظ کو یقینی بنائیں۔





















