(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بار پھر انتہائی سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دے دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے وزیر دفاع Yoav Gallant (متعلقہ بیان سے منسوب) نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور صرف امریکی اشارے کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیردفاعانہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر اجازت ملی تو ایران کے خلاف ایسی کارروائی کی جائے گی جو اسے شدید نقصان پہنچائے گی، جبکہ ان کے بیان میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے گئے جنہیں تجزیہ کار خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا واضح اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی قیادت اور اہم شخصیات کے حوالے سے دیے گئے بیانات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، کیونکہ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف سفارتی آداب کے خلاف سمجھے جاتے ہیں بلکہ کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات پہلے ہی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اور خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی سے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی طاقتیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے سخت بیانات عموماً دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم اگر انہیں عملی اقدامات میں تبدیل کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ خطہ پہلے ہی کئی بحرانوں کا شکار ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سفارتکاری اور طاقت کے درمیان توازن برقرار رکھنا اب پہلے سے زیادہ مشکل ہو چکا ہے، اور معمولی بیانات بھی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔





















