لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)دنیا میں جہاں ایک طرف ایٹمی ہتھیاروں کے خطرات کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں ایک نئی اور تشویشناک حقیقت سامنے آ رہی ہے۔ امن کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے اب انہی کمپنیوں کی طرف زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور جدید کاری میں مصروف ہیں، جس سے عالمی سطح پر ایک نئی اسلحہ جاتی دوڑ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے لیے سرگرم تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں بینک، پنشن فنڈز اور انشورنس کمپنیاں اب دفاعی صنعت کے ان حصوں میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں جو جوہری ہتھیاروں کی پیداوار سے براہِ راست جڑے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس وقت سامنے آ رہا ہے جب عالمی تنازعات پہلے ہی شدت اختیار کر چکے ہیں اور فوجی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ دنیا ایک نئی ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں موجود ایٹمی طاقتیں مختلف تنازعات میں الجھی ہوئی ہیں، جس کے باعث ہتھیاروں میں کمی اور عدم پھیلاؤ کی برسوں پرانی کوششیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔
نوبیل امن انعام یافتہ تنظیم ’’انٹرنیشنل کیمپین ٹو ایبولش نیوکلیئر ویپنز‘‘ اور اینٹی نیوکلیئر گروپ ’’پیکس‘‘ کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالیاتی اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان کمپنیوں کو فنڈز فراہم کر رہی ہے جو نو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے ہتھیاروں کے ذخائر میں توسیع اور انہیں جدید بنانے کے عمل میں شامل ہیں۔
’’ڈونٹ بینک آن دا بم‘‘ کے عنوان سے جاری سالانہ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 تک 301 مالیاتی ادارے،جن میں بینک، انشورنس کمپنیاں اور پنشن فنڈز شامل ہیں،ایٹمی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری یا فنانسنگ کر رہے تھے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے، جس سے کئی سالوں سے جاری کمی کا رجحان بھی الٹ گیا ہے۔
رپورٹ کی شریک مصنف اور آئی سی اے این کی پروگرام ڈائریکٹر سوزی سنائیڈر کے مطابق سرمایہ کاروں کی ایک بار پھر اس شعبے کی طرف واپسی اس بات کی علامت ہے کہ اسلحہ جاتی دوڑ سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں دوبارہ زور پکڑ رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ رجحان وقتی منافع کے لیے ہے مگر اس کے نتائج عالمی کشیدگی میں اضافے کی صورت میں نکل سکتے ہیں، کیونکہ اس دوڑ کو فائدہ اٹھا کر جاری رکھنا خود اسے مزید بڑھا دیتا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ روس، امریکا، چین، برطانیہ، فرانس، پاکستان، بھارت، شمالی کوریا اور اسرائیل سمیت نو ایٹمی طاقتیں اپنے ہتھیاروں کو جدید بنانے اور کئی صورتوں میں ان میں اضافہ کرنے پر کام کر رہی ہیں، جس سے اسلحے کی عالمی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسی دوران بڑی دفاعی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ روس کے ساتھ کشیدگی اور یورپ کی جانب سے امریکا پر انحصار کم کرنے کے رجحان نے کئی حکومتوں کو دفاعی اخراجات میں نرمی کے بجائے اضافہ کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
رپورٹ میں 25 ایسی بڑی کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں براہِ راست یا بالواسطہ کردار ادا کر رہی ہیں، جن میں جنرل ڈائنامکس، ہنی ویل انٹرنیشنل اور نارتھروپ گرومن نمایاں ہیں۔ ان کمپنیوں میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والے اداروں میں وینگارڈ، بلیک راک اور کیپیٹل گروپ شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2023 سے ستمبر 2025 کے دوران ان کمپنیوں میں سرمایہ کاروں نے 709 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے شیئرز اور بانڈز رکھے، جو گزشتہ مدت کے مقابلے میں تقریباً 195 ارب ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
اسی عرصے میں تقریباً 300 ارب ڈالر کی اضافی فنانسنگ قرضوں اور انڈر رائٹنگ کی صورت میں بھی فراہم کی گئی، جس میں بینک آف امریکا، جے پی مورگن چیس اور سٹی گروپ جیسے بڑے مالیاتی ادارے شامل ہیں۔
تاہم رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ کئی مالیاتی ادارے ایسے بھی ہیں جنہوں نے ایٹمی ہتھیاروں سے منسلک سرمایہ کاری سے دور رہ کر بھی مستحکم منافع حاصل کیا ہے۔ مہم چلانے والوں کے مطابق 2025 کے اختتام تک ایسے اداروں کے زیر انتظام اثاثے 40 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکے تھے جو ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔





















