ایشیائی ممالک کے دفاعی بجٹ میں اضافہ، پاکستان کی پوزیشن کیا ہے؟

سال 2025 میں ایشیائی ممالک نے دفاعی شعبے پر مجموعی طور پر 681 ارب ڈالر خرچ کیے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ایک ایسے وقت میں جب دنیا معاشی دباؤ، سیاسی کشمکش اور سیکیورٹی خدشات سے گزر رہی ہے، ایشیا میں ہتھیاروں اور دفاعی تیاریوں پر ہونے والے اخراجات ایک نئی رفتار اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں عسکری بجٹ کی بڑھتی ہوئی یہ لہر گزشتہ کئی برسوں کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے اور 2009 کے بعد سب سے نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں ایشیائی ممالک نے دفاعی شعبے پر مجموعی طور پر 681 ارب ڈالر خرچ کیے۔ یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.1 فیصد زیادہ ہے اور اسے حالیہ برسوں میں خطے کے دفاعی اخراجات میں سب سے بڑا سالانہ اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی عسکری اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر کے دفاعی بجٹ بڑھ کر 2.887 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے، جو 2024 کے مقابلے میں حقیقی معنوں میں 2.9 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ عالمی دفاعی اخراجات کا بڑا حصہ چند بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں مرکوز رہا، جہاں امریکا، چین اور روس نے مجموعی طور پر 1.480 ٹریلین ڈالر خرچ کیے، جو دنیا کے کل عسکری اخراجات کا تقریباً 51 فیصد بنتا ہے۔

اسے بھی پڑھیں: 301 مالیاتی اداروں کی ایٹمی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں میں بڑی سرمایہ کاری

چین، جو اس وقت دنیا میں دفاعی اخراجات کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے، نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرتے ہوئے بجٹ میں 7.4 فیصد اضافہ کیا ہے، جس کے بعد اس کا دفاعی خرچ 336 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ یہ اضافہ مسلسل 31 ویں سال جاری رہا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیجنگ اپنی فوجی جدید کاری کی پالیسی پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔

بھارت نے بھی دفاعی میدان میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 2025 میں اس کا عسکری بجٹ 8.9 فیصد بڑھ کر 92.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس کے ساتھ وہ دنیا کے پانچ بڑے دفاعی خرچ کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے دفاعی اخراجات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو 11 فیصد بڑھ کر 11.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

مشرقی ایشیا میں جاپان کی دفاعی حکمت عملی بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ملک نے 2025 میں فوجی اخراجات میں 9.7 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 62.2 ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے، جو اس کی مجموعی جی ڈی پی کا 1.4 فیصد بنتا ہے۔ یہ شرح 1958 کے بعد سب سے زیادہ قرار دی جا رہی ہے، جو جاپان کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

اسی طرح تائیوان نے بھی اپنے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ 14 فیصد اضافے کے بعد اس کے عسکری اخراجات 18.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو جی ڈی پی کا 2.1 فیصد بنتا ہے۔ چین کی جانب سے جزیرے کے اطراف بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور مشقوں کے باعث یہ اضافہ 1988 کے بعد سب سے زیادہ سالانہ اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایشیا اور اوشیانا میں امریکا کے اتحادی ممالک جیسے آسٹریلیا، جاپان اور فلپائن بھی اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ اس رجحان کی بڑی وجوہات میں خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور امریکا کی سیکیورٹی ضمانتوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔

مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایشیا ایک نئے دفاعی دور میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ہر ملک اپنی سیکیورٹی ترجیحات کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے اور عسکری طاقت خطے کی سیاست کا مرکزی عنصر بنتی جا رہی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین