(اسپورٹس ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر Mohammad Rizwan نے کہا ہے کہ کرکٹ صرف بڑے ناموں سے نہیں بلکہ کارکردگی اور محنت سے چلتی ہے، اور انہیں یقین ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کی بدولت پاکستان کرکٹ ٹیم دوبارہ بلندیوں کی جانب جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیم کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی اور اس میں کہیں نہ کہیں کمی موجود تھی، تاہم نوجوان کھلاڑیوں نے حوصلہ افزا کھیل پیش کیا ہے اور مستقبل انہی کے ہاتھ میں ہے، جبکہ انہوں نے سعد مسعود، عبداللہ فضل، یاسر خان، عماد بٹ، علی رضا اور سمیر منہاس جیسے کھلاڑیوں سے امیدیں وابستہ کیں۔
محمد رضوان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان کی اپنی فارم اچھی نہیں رہی اور ممکن ہے کہ محنت میں کمی رہ گئی ہو، تاہم انہوں نے اسے ایک آزمائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں بہتر کارکردگی دکھانے کیلئے پرعزم ہیں، کیونکہ ماضی میں وہ مسلسل ٹیم کو فائنلز تک لے جاتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم کو انجریز کا بھی سامنا رہا جس نے کارکردگی پر اثر ڈالا، جبکہ اہم میچز میں کیچز چھوڑنا اور بیٹنگ میں ناکامی شکست کی بڑی وجوہات بنیں، خاص طور پر فیصلہ کن مقابلوں میں ٹیم دباؤ کو سنبھالنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
رضوان نے سابق کرکٹر Azam Khan کی محنت کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے گزشتہ چند ماہ میں نمایاں بہتری دکھائی ہے، جس سے مستقبل میں بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے Pakistan Super League کے حوالے سے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود لیگ کا انعقاد ایک بڑا فیصلہ تھا، تاہم ذاتی طور پر انہیں یہ صورتحال کچھ عجیب لگی، جبکہ انہوں نے لاہور قلندرز کے پلے آف میں نہ پہنچنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق محمد رضوان کا بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کرکٹ اس وقت ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں سینئر اور نوجوان کھلاڑیوں کے درمیان توازن قائم کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے، اور یہی توازن ٹیم کو مستقبل میں کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جدید کرکٹ میں صرف شہرت نہیں بلکہ مستقل مزاجی، فٹنس اور ٹیم ورک ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہیں، اور یہی اصول کسی بھی ٹیم کو عالمی سطح پر مضبوط بنا سکتے ہیں





















