کون سی غذائیں توجہ کو متاثر کرتی ہیں؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

پروسیسڈ غذاؤں سے بھرپور خوراک دماغ کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے،تحقیق

(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فیکٹری میں تیار ہونے والی غذاؤں کا زیادہ استعمال انسانی توجہ اور یکسوئی کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے نہ صرف روزمرہ کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ دماغی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق پروسیسڈ غذاؤں سے بھرپور خوراک دماغ کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے اور توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت میں واضح کمی پیدا کرتی ہے، جبکہ طویل مدت میں یہ رجحان یادداشت سے متعلق مسائل اور بیماریوں جیسے Dementia کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Alzheimer’s Association کے جریدے میں شائع ہوئی، جس میں 2100 سے زائد افراد کی خوراک اور ذہنی صحت کا جائزہ لیا گیا، اور نتائج نے واضح کیا کہ الٹرا پروسیسڈ خوراک کی معمولی اضافی مقدار بھی دماغی توجہ کو متاثر کرنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ان غذاؤں میں شامل مصنوعی اجزاء، زائد چکنائی، نمک اور شکر دماغی خلیوں کے کام کو متاثر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان جلد تھکن، توجہ کی کمی اور ذہنی سستی کا شکار ہو سکتا ہے، چاہے وہ بظاہر صحت مند غذا بھی استعمال کر رہا ہو۔

مرکزی محقق کے مطابق صنعتی طریقے سے تیار ہونے والی خوراک اور ذہنی تنزلی کے درمیان واضح تعلق موجود ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری روزمرہ خوراک کا براہ راست اثر ہمارے دماغی افعال پر پڑتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جدید طرز زندگی میں فاسٹ فوڈ اور تیار شدہ اشیاء کا بڑھتا ہوا استعمال ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ متوازن اور قدرتی غذا کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

یہ تحقیق اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ صحت مند دماغ کیلئے صرف ورزش ہی نہیں بلکہ درست خوراک بھی انتہائی ضروری ہے، اور معمولی تبدیلیاں بھی طویل مدت میں بڑے مثبت نتائج دے سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین