سکولوں نے طلبہ کے موبائل فون استعمال پر بڑی پابندی لگا دی ہے۔ تقریباً تمام پرائمری اور 90 فیصد سے زائد سیکنڈری اسکولوں نے اسکول کے اوقات میں سمارٹ فونز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق لندن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق انگلینڈ کے تقریباً تمام اسکولوں نے طلبہ کے موبائل فون استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بچوں کی کمشنر برائے انگلینڈ، راچل ڈی سوزا کی ہدایت پر کیے گئے ایک قومی سروے سے پتا چلا کہ اسکول کے اوقات میں سمارٹ فون کے استعمال کو ہیڈ ٹیچرز نے روک دیا ہے۔ اس سروے میں 15 ہزار سے زیادہ اسکولوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں معلوم ہوا کہ 99.8 فیصد پرائمری اسکولوں اور 90 فیصد سیکنڈری اسکولوں نے موبائل فونز پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔
نیشنل ایجوکیشن یونین کے سیکرٹری جنرل ڈینیئل کیبیڈے نے کہا کہ ان کے خیال میں اسکولوں میں موبائل فونز پر قانونی پابندی ہونی چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے نہ صرف اساتذہ بلکہ والدین پر بھی دباؤ کم ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں موبائل فون کے استعمال، آن لائن خطرات اور اس کے نوجوانوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔
انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ایک عام 12 سالہ بچہ اپنے موبائل فون کے ذریعے انتہائی نامناسب مواد دیکھ سکتا ہے۔ یہ بچوں کی ذہنی صحت، خاص طور پر لڑکوں کے خواتین اور لڑکیوں کے بارے میں نظریات اور ان کے سماجی و جنسی تعلقات پر بہت برا اثر ڈالتا ہے۔





















