سلہٹ (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)Bangladesh national cricket team نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے Pakistan national cricket team کو جیت کیلئے 437 رنز کا بڑا ہدف دے دیا۔
سلہٹ میں جاری ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز بنگلادیش کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 390 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، جس کے بعد پاکستان کو فتح کیلئے 437 رنز درکار ہیں۔
بنگلادیش نے تیسرے دن کے کھیل کا آغاز 3 وکٹوں کے نقصان پر 110 رنز سے کیا۔ کپتان نجم الحسن شانتو اور مشفق الرحیم کریز پر موجود تھے، تاہم 115 کے مجموعی اسکور پر نجم الحسن شانتو 15 رنز بنا کر خرم شہزاد کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
اس کے بعد تجربہ کار بلے باز مشفق الرحیم نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 137 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ لٹن داس نے 69 رنز اسکور کیے۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 123 رنز کی اہم شراکت قائم ہوئی جس نے میچ کا پانسہ میزبان ٹیم کی جانب موڑ دیا۔
دیگر بیٹرز میں مہدی حسن میراز 19، تیج الاسلام 22، تسکین احمد 6 اور شریف الاسلام 12 رنز بنا سکے جبکہ ناہید رانا کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہوگئے۔
پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ساجد خان نے 3، حسن علی نے 2 اور محمد عباس نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
اس سے قبل پاکستان اپنی پہلی اننگز میں 232 رنز پر ڈھیر ہوگیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے Babar Azam نے 68 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی جبکہ شان مسعود 21، سلمان آغا 21، محمد رضوان 13 اور ساجد خان 38 رنز بنا سکے۔
بنگلادیش کی جانب سے ناہید رانا اور تیج الاسلام نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ تسکین احمد اور مہدی حسن میراز نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
یاد رہے کہ دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں بنگلادیش کو پہلے ہی ایک صفر کی برتری حاصل ہے، جہاں اس نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 104 رنز سے شکست دی تھی۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستانی ٹیم ایک مرتبہ پھر دباؤ میں بکھرتی دکھائی دے رہی ہے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ بنگلادیشی بیٹرز نے صبر اور منصوبہ بندی کے ساتھ کھیلتے ہوئے پاکستانی بولرز کو طویل وقت تک تھکائے رکھا، جبکہ پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر مستقل مزاجی کا مظاہرہ نہ کر سکی۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کی اننگز کے باوجود مڈل آرڈر کی ناکامی ٹیم کیلئے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
ان کے مطابق 437 رنز کا ہدف ایشیائی کنڈیشنز میں انتہائی مشکل تصور کیا جاتا ہے، اس لیے پاکستان کو تاریخی فتح کیلئے غیر معمولی بیٹنگ کرنا ہوگی۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر شائقینِ کرکٹ نے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔
کئی صارفین نے بولنگ اٹیک کی تعریف کی مگر بیٹنگ لائن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
بعض مداحوں نے بابر اعظم کی اننگز کو سراہتے ہوئے کہا کہ دیگر بیٹرز کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔
دوسری جانب بنگلادیشی شائقین اپنی ٹیم کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تاریخی سیریز فتح کیلئے پُرامید نظر آئے۔
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
کرکٹ ماہرین کے مطابق پاکستان کیلئے میچ بچانا بھی اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی وکٹیں جلد گر گئیں تو پاکستان کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق بنگلادیشی اسپنرز آخری دو دنوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان کو کامیابی کیلئے طویل شراکت داریوں کی ضرورت ہوگی۔





















