اسلام آباد: پاکستان کی وفاقی حکومت نے سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ تربیت کو عالمی معیارات کے برابر کرنے کا اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس اقدام سے بیوروکریٹس کی کارکردگی میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تربیتی مراکز کو بین الاقوامی اسٹینڈرڈائزیشن آرگنائزیشن کے اصولوں پر عمل درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ سرکاری شعبے کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
سیکرٹریٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ نے اس سلسلے میں نامور کمپنیوں سے بولیاں مانگی ہیں۔ یہ ٹینڈرز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تربیت کا نظام اعلیٰ درجے کا ہو۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا کہنا ہے کہ سول افسران کے تربیتی اداروں میں ISO 21001 کے معیارات کو نافذ کیا جائے گا۔ یہ معیار تعلیم اور تربیت کے میدان میں عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے اور اس سے اداروں کی کارکردگی میں استحکام آئے گا۔
اسے بھی پڑھیں: دنیا کی 90 فیصد آبادی ماحولیاتی بحران کی لپیٹ میں ہے، ورلڈ بینک
ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ قدم عوامی شعبے کی حکمرانی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ جوابدہی اور شفافیت کو مضبوط کرے گا۔ اس سے سرکاری افسران کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور عوامی خدمات میں بہتری آئے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، کمپنیاں پیپرا کے ضوابط کے تحت 22 ستمبر تک اپنی دستاویزات جمع کروا سکتی ہیں۔ یہ عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا تاکہ بہترین انتخاب ممکن ہو۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکرٹریٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سول بیوروکریٹس کی مہارتوں کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یہ ادارہ افسران کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرے گا، جس سے مجموعی طور پر سرکاری نظام مضبوط ہوگا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت عوامی شعبے کی اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے۔ اس سے نہ صرف افسران کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سرکاری مشینری کی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔
تفسیلی تجزیہ
یہ حکومتی فیصلہ پاکستان کے سرکاری شعبے میں ایک مثبت پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر جب بیوروکریسی کو اکثر ناکارہ اور پرانی طرز کی تربیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ISO 21001 کا نفاذ، جو تعلیمی اداروں کے لیے ایک عالمی معیار ہے، تربیتی پروگراموں کو منظم، شفاف اور مؤثر بنائے گا۔ اس سے افسران کی مہارتوں میں اضافہ ہوگا، جو بالآخر عوامی خدمات جیسے صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر میں بہتری لائے گا۔
اس اقدام کا ایک اہم پہلو شفافیت اور احتساب کا ہے۔ پیپرا قواعد کے تحت ٹینڈرز کا عمل یقینی بنائے گا کہ کوئی کرپشن یا پسندیدگی نہ ہو، جو پاکستان جیسے ملک میں جہاں بدعنوانی ایک چیلنج ہے، بہت ضروری ہے۔ سیکرٹریٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کو مرکزی کردار دینے سے یہ ادارہ مزید فعال ہوگا، اور افسران کو جدید ٹیکنالوجی، لیڈرشپ اور پالیسی سازی کی تربیت مل سکے گی۔
تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار عمل درآمد پر ہے۔ اگر ٹینڈرز کا عمل شفاف نہ رہا یا معیارات کو مکمل طور پر نافذ نہ کیا گیا تو یہ محض ایک کاغذی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔ مزید برآں، یہ فیصلہ حکومت کی مجموعی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ لگتا ہے، جو معاشی استحکام اور گورننس کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ طویل مدتی طور پر، یہ پاکستان کو بین الاقوامی اداروں جیسے ورلڈ بینک یا IMF کی شرائط پر پورا اترنے میں مدد دے سکتا ہے، جہاں اچھی گورننس ایک کلیدی عنصر ہے۔ مجموعی طور پر، یہ قدم امید افزا ہے لیکن اس کی نگرانی اور جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ حقیقی تبدیلی آئے۔





















