خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں کینسر کے مریضوں کے لیے پہلی بار سائبر نائف اور پی ای ٹی اسکین کی جدید سہولیات فراہم کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) کو سائبر نائف روبوٹک ریڈیو سرجری اور پی ای ٹی/سی ٹی اسکین کی سہولت سے آراستہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل، خیبر پختونخوا میں پی ای ٹی اسکین کی عدم دستیابی کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کو علاج کے لیے کراچی اور دیگر صوبوں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جو نہ صرف مہنگا اور تکلیف دہ تھا بلکہ وقت ضائع کرنے کا سبب بھی بنتا تھا۔
نئےدور کا آغاز
صوبائی مشیر صحت احتشام علی نے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے کمپنیوں سے پہلے ہی پروپوزلز طلب کر لیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام صوبے میں کینسر کے علاج کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا اور برسوں سے موجود ایک بڑے خلا کو پر کرے گا۔ اب خیبر پختونخوا کے کینسر مریضوں کو تشخیص اور علاج کے لیے صوبے سے باہر دیگر شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ صوبے میں ہر سال 11,700 سے زائد نئے کینسر کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، اس لیے یہ سہولت نہ صرف بروقت ہے بلکہ زندگیاں بچانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
علاج کی کامیابی کی شرح میں اضافہ
احتشام علی نے مزید کہا کہ سائبر نائف سسٹم پیچیدہ اور ناقابل آپریشن ٹیومرز کے لیے غیر جراحی طریقے سے انتہائی درستگی کے ساتھ ریڈیو سرجری فراہم کرے گا، جو مریضوں کے لیے کم تکلیف دہ اور موثر علاج کی ضمانت دے گا۔ اسی طرح، پی ای ٹی/سی ٹی اسکین کینسر کی بروقت تشخیص، درست اسٹیجنگ اور مریض کے لیے موزوں علاج کی منصوبہ بندی کو ممکن بنائے گا، جس سے علاج کی کامیابی کی شرح میں اضافہ ہوگا۔ یہ منصوبہ صوبائی حکومت کی صحت کے شعبے میں ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
پس منظر
خیبر پختونخوا (کے پی) پاکستان کا ایک ایسا صوبہ ہے جہاں صحت کی سہولیات، خاص طور پر جدید طبی ٹیکنالوجیز کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔ کینسر ایک عالمی وباء ہے، اور پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد اس کا شکار ہوتے ہیں۔ کے پی میں کینسر کے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو بنیادی طور پر تمباکو نوشی، ماحولیاتی آلودگی، غیر صحت مند خوراک اور جینیاتی عوامل کی وجہ سے ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، پاکستان میں کینسر کے تقریباً 1.8 لاکھ نئے کیسز سالانہ رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں سے ایک بڑا حصہ کے پی سے تعلق رکھتا ہے۔
اس سے قبل، کے پی میں پی ای ٹی (پوزیٹرون ایمیشن ٹوموگرافی) اسکین جیسی جدید تشخیصی سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے مریضوں کو لاہور، اسلام آباد یا کراچی جیسے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ یہ نہ صرف مالی بوجھ بڑھاتا تھا بلکہ علاج میں تاخیر کا سبب بھی بنتا تھا، جو کینسر جیسی بیماری میں مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ سائبر نائف ایک جدید روبوٹک ریڈیو سرجری سسٹم ہے جو 1990 کی دہائی میں متعارف ہوا اور امریکہ کی کمپنی Accuray کی طرف سے تیار کیا گیا۔ یہ ٹیومرز کو بغیر چیر پھاڑ کے، لیزر جیسی درستگی سے تابکاری سے نشانہ بناتا ہے۔ اسی طرح، پی ای ٹی/سی ٹی اسکین ایک ہائبرڈ امیجنگ ٹیکنالوجی ہے جو کینسر کی تشخیص میں 90 فیصد سے زائد درستگی فراہم کرتی ہے۔ پاکستان میں یہ سہولیات زیادہ تر پنجاب اور سندھ میں دستیاب ہیں، جبکہ کے پی اور بلوچستان جیسے صوبوں میں یہ خلا موجود تھا۔ حکومت کے پی کی جانب سے یہ فیصلہ صحت کی پالیسیوں میں ایک مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر جب سے 2018 کے بعد صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔
تجزیہ
یہ فیصلہ کے پی حکومت کی صحت کے شعبے میں ایک انقلابی قدم ہے، جو نہ صرف کینسر کے مریضوں کی زندگیاں بچانے میں مدد دے گا بلکہ صوبائی سطح پر طبی انفراسٹرکچر کو مضبوط کرے گا۔ مثبت پہلوؤں کا جائزہ: سب سے پہلے، یہ منصوبہ مقامی سطح پر دستیاب ہوگا، جس سے مریضوں کے سفر اور اخراجات میں کمی آئے گی۔ اندازاً، ایک پی ای ٹی اسکین کا خرچہ 50,000 سے 1 لاکھ روپے تک ہوتا ہے، اور سفر کے اخراجات اسے مزید مہنگا کر دیتے ہیں۔ سائبر نائف کی سہولت سے پیچیدہ ٹیومرز کا علاج ممکن ہوگا، جو روایتی سرجری سے 30-50 فیصد کم تکلیف دہ ہے اور بحالی کا وقت کم کرتا ہے۔ سالانہ 11,700 سے زائد کیسز کو دیکھتے ہوئے، یہ سہولت صحت کی دیکھ بھال کی لاگت کو کم کرے گی اور مریضوں کی بقاء کی شرح میں اضافہ کرے گی۔ ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق، بروقت تشخیص سے کینسر کی موت کی شرح 20-30 فیصد کم ہو سکتی ہے۔
چیلنجز اور ممکنہ مسائل: تاہم، اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار کئی عوامل پر ہے۔ پہلے، آلات کی خریداری اور تنصیب کے لیے پروپوزلز طلب کیے گئے ہیں، جو شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے، لیکن تاخیر کا خطرہ موجود ہے۔ دوسرا، تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے؛ سائبر نائف جیسے آلات کو چلانے کے لیے ماہر ریڈیالوجسٹس اور ٹیکنیشنز کی ضرورت ہوتی ہے، جو کے پی میں محدود ہیں۔ تیسرا، دیکھ بھال اور آپریشنل اخراجات کو برقرار رکھنا حکومت کے لیے بوجھ بن سکتا ہے، خاص طور پر جب بجٹ کی قلت ہو۔ مزید برآں، یہ سہولت صرف حیات آباد میڈیکل کمپلیکس تک محدود ہے، جو دور دراز علاقوں جیسے قبائلی اضلاع کے مریضوں کے لیے اب بھی ناکافی ہو سکتی ہے۔
تجاویز اور مستقبل کی سمت: حکومت کو اس منصوبے کو توسیع دیتے ہوئے دیگر ہسپتالوں جیسے لیڈی ریڈنگ ہسپتال یا کے ٹی ایچ میں بھی ایسی سہولیات قائم کرنی چاہییں۔ عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ لوگ بروقت تشخیص کی اہمیت سمجھیں۔ نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری سے لاگت کم کی جا سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ اقدام کے پی کی صحت پالیسی کو عالمی معیارات کے قریب لائے گا اور دیگر صوبوں کے لیے ایک مثال قائم کرے گا، بشرطیکہ اسے موثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔ یہ نہ صرف طبی بلکہ معاشی فوائد بھی لائے گا، کیونکہ صحت مند آبادی ترقی کی بنیاد ہے۔





















