ایشیا کپ کی ٹرافی انتظامیہ لے گئی، بھارتی ٹیم کھڑی تماشہ دیکھتی رہ گئی

ایشیا کپ 2025 کا فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان دبئی میں کھیلا گیا

دبئی: ایشیا کپ کی تقریب فاتح ٹیم کو ٹرافی دیے بغیر ہی ختم ہوگئی اور انتظامیہ ٹرافی اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ بھارتی ٹیم کھڑی انتظار کرتی رہ گئی لیکن ٹرافی بھارتی کرکٹ ٹیم کو نہیں دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھارتی ٹیم کو ٹرافی ملنے کا امکان نہیں ہے، ایشیا کپ کی انتظامیہ ٹرافی اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی ٹیم کو نہ تو میڈلز ملے اور نہ ہی چیمپئن کا بورڈ دیا گیا جس کے باعث بھارتی ٹیم نے ٹرافی اور چیمپئن کے بورڈ کے بغیر ہی تصاویر بنوائیں۔ دوسری جانب بھارتی ٹیم اب تک گراؤنڈ میں موجود ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹرافی لے کر جائیں گے جب کہ اسٹیڈیم کی لائٹس بھی بجھادی گئی ہیں۔ یہ واقعہ 28 ستمبر 2025 کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں بھارت کی 5 وکٹوں سے جیت کے بعد پیش آیا، جہاں بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو کی ٹیم نے پاکستان کو 146 رنز پر روک کر ہدف کا تعاقب کیا۔ یہ تنازع ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی کی موجودگی پر مرکوز ہے، جو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین اور پاکستان کے اندرونی وزیر بھی ہیں۔

 بھارت کی سنسنی خیز جیت

ایشیا کپ 2025 کا فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان دبئی میں کھیلا گیا، جہاں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 146 رنز بنائے، جس میں سلمان آغا کی نصف سنچری اہم تھی۔ بھارتی بولرز، خاص طور پر کلدیپ یادو (3/28) اور ارش دیپ سنگھ (2/25)، نے پاکستان کی اننگز کو محدود رکھا۔ تعاقب میں بھارت نے تلاک ورما کی ناقابلِ ہزیمت 69 رنز (53 گیندیں) کی مدد سے 5 وکٹوں سے ہدف حاصل کر لیا، جو ان کا ریکارڈ 9واں ایشیا کپ ٹائٹل ہے۔ میچ کے اختتام کے بعد پاکستان کے کھلاڑی فوری طور پر ڈریسنگ روم چلے گئے، جس سے تقریب میں تاخیر ہوئی، جو ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔ اس دوران بھارتی کھلاڑی میدان میں رہے، جبکہ شائقین کی بوجھ اٹھتی رہی۔ تقریب کے دوران پاکستان کے کھلاڑیوں کو رنر اپ میڈلز ملے، مگر بھارتی ٹیم نے مرحلہ چڑھنے سے انکار کر دیا۔

محسن نقوی سے انکار

خیال رہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کے بعد بھارتی بورڈ کے ایما پر بھارتی ٹیم نے ہٹ دھرمی جاری رکھی اور صدر ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا۔ بھارتی ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کیا تو صدر اے سی سی محسن نقوی بھی اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے۔ بعد ازاں تقریب کے میزبان سائمن ڈول نے بتایا کہ انہیں ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بھارتی ٹیم آج ٹرافی وصول نہیں کرے گی۔

تقریب ایک گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا شکار رہی، جہاں کلدیپ یادو، ابھیشیک شرما اور تلاک ورما کو انفرادی ایوارڈز دوسرے مہمانوں سے ملے، جبکہ پاکستان کے کپتان سلمان آغا کو رنر اپ چیک حاصل ہوا۔ تاہم، جب ٹرافی کی باری آئی تو بھارتی کھلاڑیوں نے مرحلہ چڑھنے سے انکار کر دیا، کیونکہ ٹرافی اے سی سی صدر محسن نقوی کی جانب سے پیش کی جانی تھی۔ نقوی نے ٹرافی اور میڈلز لے کر تقریب سے چلے جانے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد تقریب ختم ہو گئی۔ بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے بعد میں کہا کہ "میں نے کبھی چیمپئن ٹیم کو ٹرافی نہ ملنے نہیں دیکھا، ہم اس کے مستحق تھے”۔ بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے بھی کہا کہ نقوی نے ٹرافی اپنے ہوٹل روم لے لی ہے اور اسے فوری واپس کرنے کا مطالبہ کیا، ورنہ آئی سی سی کانفرنس میں شدید احتجاج کریں گے۔

ٹورنامنٹ کا تناظر

خیال رہے کہ ایشیا کپ کے دوران بھارتی ٹیم نے اسپورٹس مین اسپرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ تو پاکستانی ٹیم سے ہاتھ ملایا اور نہ ہی فائنل سے قبل بھارتی کپتان نے پاکستانی کپتان کے ساتھ تصویر بنوائی۔ یہ تنازع گروپ سٹیج اور سپر فور میچز میں بھی دیکھا گیا، جہاں بھارتی ٹیم نے ہاتھ ملانے سے انکار کیا، جس پر پاکستان نے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ واقعات سیاسی تناؤ کی وجہ سے ہوئے، خاص طور پر پہلگام دہشت گردی حملے کے بعد، جو بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھا رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر یہ تنازع وائرل ہو گیا، جہاں بھارتی شائقین نے نقوی کو "ٹرافی چور” کہا جبکہ پاکستانی صارفین نے بھارتی ٹیم کی ہٹ دھرمی کی مذمت کی۔

یہ تنازع، اگرچہ ابتدائی طور پر کرکٹ کی روح پر ایک دھبہ لگاتا ہے، مگر ایشیائی کرکٹ کے لیے ایک مثبت سبق اور اصلاح کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو کھیل کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ سب سے پہلے، بھارت کی جیت اور ٹرافی کی عدم دستیابی کے باوجود ان کی جشن منانے کی ہمت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کھیل کی اصل خوبصورتی کارکردگی میں ہے، نہ کہ رسمیات میں۔ بھارتی کھلاڑیوں کا ٹرافی کے بغیر تصاویر بنوانا ایک زبردست ٹرولنگ اور خود اعتمادی کی مثال ہے، جو شائقین کو متحد کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ فتح کی خوشی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ یہ واقعہ بی سی سی آئی کو آئی سی سی میں مضبوط احتجاج کا موقع دیتا ہے، جو مستقبل میں ایسے تنازعات کو روکنے کے لیے نئی پالیسیاں وضع کر سکتا ہے، جیسے غیر جانبدار مہمانوں کی تقرری، جو کرکٹ کو صاف ستھرا رکھے گی۔

دوسرا، محسن نقوی کا ڈٹ جانا اور تقریب ختم کرنا، اگرچہ شدید لگتا ہے، مگر اے سی سی کی خودمختاری کو ظاہر کرتا ہے، جو پاکستان جیسے ملک کو کرکٹ کی نگرانی میں اہم کردار دیتا ہے۔ یہ تنازع پاکستان اور بھارت کو یہ سوچنے پر مجبور کرے گا کہ سیاسی کشیدگی کرکٹ کی مقبولیت کو کیسے نقصان پہنچا رہی ہے، اور دونوں بورڈز کو باہمی احترام کی بنیاد پر روایات بحال کرنے کی ترغیب دے گا۔ اس سے نئی نسل کے کھلاڑیوں کو سبق ملے گا کہ اسپورٹس مین شپ سیاسی سے بالاتر ہوتی ہے، اور ہاتھ ملانا کھیل کی روح ہے، جو تنازعات کو کم کر سکتی ہے۔

تیسرا، سوشل میڈیا کا کردار یہاں مثبت ہے، کیونکہ اس نے تنازع کو فوری طور پر عالمی سطح پر اجاگر کیا، جس سے آئی سی سی اور اے سی سی پر دباؤ پڑے گا کہ وہ شفافیت بڑھائیں۔ بھارتی ٹیم کی 3-0 کی جیت نے ٹورنامنٹ کو سنسنی خیز بنایا، اور یہ تنازع اسے یادگار بنا دے گا، جو کرکٹ کو مزید مقبول بنائے گا۔ بی سی سی آئی کا 21 کروڑ روپے کا انعام اعلان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ ادارہ ٹیم کی پشت پر کھڑا ہے۔

آخر میں، یہ واقعہ کرکٹ کی عالمی اہمیت کو یاد دلاتا ہے کہ یہ صرف کھیل نہیں بلکہ ثقافتی پل ہے، جو سیاسی رکاوٹوں کو توڑ سکتا ہے۔ اگر اے سی سی ٹرافی جلد واپس کر دے تو یہ ایک مثبت اختتام ہوگا، جو مستقبل کے ٹورنامنٹس کو بہتر بنائے گا اور ایشیا کپ کو مزید متحد اور دلچسپ بنا دے گا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ فتح کی خوشی ہمیشہ زندہ رہتی ہے، چاہے ٹرافی ہاتھ میں ہو یا نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین