تہران (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کو مدد فراہم کرنے والے ممالک کے خلاف معاشی کارروائی کے اعلان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی نام نہاد ’اکنامک ڈی ڈے‘ پالیسی دراصل اپنے اندرونی بحران سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا اپنی ناکام پالیسیوں کو مزید سخت کرکے کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا بلکہ اسے مزید شکست اور ایرانی عوام کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی معاشی اقدامات صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت اور مختلف ممالک کی خودمختاری کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔
ٹرمپ کی ایران کے حامی ممالک کو دھمکی
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد یا سہارا فراہم کرنے والے ممالک کو سنگین معاشی نتائج کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا تھا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرے گا، اسے ’’بہت بڑے معاشی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ دھمکی پر عمل درآمد کی صورت میں واشنگٹن کن مخصوص اقدامات کا سہارا لے گا اور نہ ہی کسی ملک کا نام لیا۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ آیا امریکا ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے والے ان ممالک پر بھی دباؤ بڑھائے گا جو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات یا سفارتی رابطوں میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق عباس عراقچی کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ایران امریکی معاشی دباؤ کو محض ایران کے خلاف اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع تر پالیسی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر واشنگٹن نے ایران کی معاونت کرنے والے ممالک پر بھی معاشی پابندیاں عائد کیں تو اس کے اثرات دو طرفہ تعلقات سے بڑھ کر عالمی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔
عوامی رائے
ٹرمپ کے بیان اور ایرانی وزیر خارجہ کے ردعمل کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین امریکی دباؤ کو ایران کے خلاف سخت حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ معاشی جنگ سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت یا تعاون کرنے والے ممالک پر دباؤ بڑھانے سے عالمی سفارت کاری مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق معاشی پابندیوں کے اثرات صرف ایران تک محدود رہنے کے بجائے تجارت، توانائی اور عالمی مالیاتی نظام کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی شدید کشیدگی موجود ہے۔ ایسے میں معاشی دباؤ کو مزید بڑھانے کے بجائے سفارتی راستوں کو کھلا رکھنا خطے میں مزید بڑے بحران سے بچنے کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔
میری رائے میں ٹرمپ اور عباس عراقچی کے بیانات سے واضح ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف فوجی معاملات تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشی دباؤ بھی تنازع کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکا اپنی دھمکیوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرتا ہے یا سفارتی رابطوں کے ذریعے کسی نئے راستے کی تلاش کی جاتی ہے۔





















