(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)روزمرہ زندگی میں میٹھے اور کاربونیٹڈ مشروبات کا استعمال صحت کے لیے ایک اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ جو افراد روزانہ کم از کم ایک مرتبہ میٹھا مشروب پیتے ہیں، ان میں معدے کے کینسر کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً دگنا ہوسکتا ہے جو مہینے میں ایک بار سے بھی کم ایسے مشروبات استعمال کرتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ تحقیق طبی جریدے ’گیسٹرو ہیپ ایڈوانسز‘ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مصنف اینڈریو چان کے مطابق یہ پہلی تحقیق ہے جس میں میٹھے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان واضح تعلق سامنے آیا ہے۔
تحقیق میں یہ اشارہ بھی ملا کہ مصنوعی مٹھاس یا کم کیلوریز والے مشروبات معدے کے کینسر کے اضافی خطرے سے منسلک نہیں تھے۔ محققین کے مطابق مصنوعی مٹھاس والے کاربونیٹڈ مشروبات کا استعمال اس حوالے سے خطرہ بڑھاتا ہوا دکھائی نہیں دیا، بلکہ ابتدائی نتائج میں اس کے ممکنہ طور پر کم خطرے کی جانب بھی اشارہ ملا ہے۔
اس سے قبل مختلف تحقیقات میں میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال کو بڑی آنت، چھاتی اور جگر کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا جاچکا ہے، تاہم معدے کے کینسر کے ساتھ اس تعلق کے بارے میں شواہد نسبتاً محدود تھے۔ نئی تحقیق نے اس حوالے سے مزید اہم معلومات فراہم کی ہیں۔
تحقیق میں 112 ہزار افراد کا ڈیٹا شامل
محققین نے کئی دہائیوں پر محیط 112 ہزار افراد کے صحت اور طرز زندگی سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ تجزیے کے دوران معلوم ہوا کہ ان افراد میں سے 278 افراد کو معدے کا کینسر لاحق ہوا، جبکہ یہ بیماری مردوں اور خواتین دونوں میں پائی گئی۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق میٹھے مشروبات کے روزانہ استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان تعلق نمایاں رہا۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق کسی حتمی وجہ اور اثر کو ثابت نہیں کرتی بلکہ مشروبات کے استعمال اور بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتی ہے۔
تحقیق کے مصنف اینڈریو چان نے کہا کہ معدے کا کینسر دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی پانچویں بڑی وجہ ہے۔ ان نتائج کے بعد میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال اور صحت پر اس کے ممکنہ اثرات کو مزید سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق تحقیق کے نتائج میٹھے مشروبات کے روزانہ استعمال اور معدے کے کینسر کے خطرے کے درمیان ایک اہم تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم چونکہ تحقیق براہِ راست وجہ اور اثر ثابت نہیں کرتی، اس لیے نتائج کو احتیاط کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
عوامی رائے
میٹھے اور کاربونیٹڈ مشروبات روزمرہ زندگی میں عام استعمال ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔ تحقیق کے نتائج سامنے آنے کے بعد صحت کے حوالے سے باشعور افراد کی جانب سے ان مشروبات کے زیادہ استعمال کو محدود کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق میٹھے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان تعلق کو مزید سمجھنے کے لیے بڑے پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ موجودہ تحقیق اہم شواہد فراہم کرتی ہے، تاہم اسے حتمی طور پر یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا کہ میٹھے مشروبات ہی معدے کے کینسر کا سبب بنتے ہیں۔
صحت مند طرز زندگی کے لیے میٹھے مشروبات کا ضرورت سے زیادہ استعمال کم کرنا ایک محتاط انتخاب ہوسکتا ہے۔ تاہم کسی بھی طبی تحقیق کے نتائج کو حتمی فیصلہ سمجھنے کے بجائے ماہرین کی مزید تحقیق اور طبی رہنمائی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
میری رائے میں اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ روزانہ میٹھے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے خطرے کے درمیان نمایاں تعلق سامنے آیا ہے۔ اگرچہ تحقیق وجہ اور اثر کو ثابت نہیں کرتی، لیکن یہ نتائج روزمرہ خوراک اور مشروبات کے انتخاب میں احتیاط کی اہمیت ضرور اجاگر کرتے ہیں۔





















