ہانیہ عامر کا موسیقی کی دنیا میں دھماکہ دار انٹری، پہلا گانا ’پابلو‘ ریلیز

راکھی ساونت کی خصوصی شرکت نے سب کو حیران کردیا

پاکستانی شوبز کی مقبول اداکارہ ہانیہ عامر نے اداکاری کے بعد اب موسیقی کی دنیا میں بھی باقاعدہ قدم رکھ دیا ہے اور اپنا پہلا گانا ’پابلو‘ ریلیز کردیا ہے۔ پنجابی ہپ ہاپ انداز میں تیار کیے گئے اس گانے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ہانیہ عامر نے خود لکھا اور کمپوز کیا ہے، جبکہ گانے کے ذریعے اداکارہ نے اپنی مقبولیت، شخصیت اور اپنے بارے میں ہونے والی تنقید کا منفرد اور بے باک انداز میں جواب دیا ہے۔

’پابلو‘ کا آغاز ایک نرم اور خوبصورت پیانو دھن سے ہوتا ہے جو ہانیہ عامر کے عام شوخ اور معصوم انداز سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے، تاہم کچھ ہی دیر بعد گانا تیز رفتار پنجابی ہپ ہاپ کے انداز میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہانیہ عامر اپنے ناقدین اور مخالفین کو براہِ راست مخاطب کرتی ہیں اور واضح کرتی ہیں کہ وہ دوسروں کی منفی باتوں کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتیں۔

گانے میں ہانیہ عامر ان لوگوں کو بھی مخاطب کرتی ہیں جو انہیں ان کی خوبصورتی اور ظاہری شخصیت کی وجہ سے ’فیک‘ یا ’جعلی‘ سمجھتے ہیں۔ اداکارہ اپنے مخصوص انداز میں ان تنقیدوں کا جواب دیتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی دوسروں کے بنائے ہوئے معیار کے مطابق گزارنے کے بجائے اپنی مرضی سے زندگی کو انجوائے کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔

ہانیہ عامر نے ’پابلو‘ میں اپنی مقبولیت کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ مداح مختلف مقامات پر ان کا پیچھا کرتے ہیں اور ان کا ’پنڈی اٹیٹیوڈ‘ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ اسے بھارت میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ گانے کے ذریعے اداکارہ نے اپنی شہرت اور عوامی توجہ کو بھی طنزیہ اور پراعتماد انداز میں پیش کیا ہے۔

گانے میں ہانیہ عامر اپنی ذاتی زندگی اور اپنے طرزِ زندگی کے حوالے سے بھی بات کرتی نظر آتی ہیں۔ وہ اپنی مصروفیات، دوستوں اور اپنی مختلف شرارتوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ تاثر دیتی ہیں کہ انہیں ہر وقت اپنے اگلے قدم کی منصوبہ بندی کرنے یا ناقدین کی باتوں کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

اداکارہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ناقدین کی طرح کسی سازش یا اگلے منصوبے میں مصروف نہیں بلکہ موسیقی کی دھن پر اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔ گانے میں وہ اس بات کا بھی حوالہ دیتی ہیں کہ وہ زیادہ انٹرویوز نہیں دیتیں، لیکن اس کے باوجود مسلسل خبروں اور عوامی توجہ کا حصہ بنی رہتی ہیں۔

ہانیہ عامر نے گانے میں اپنے مخالفین کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ کچھ دیر سکون سے بیٹھیں، سانس لیں اور ہر بات کو اپنے اوپر سوار نہ کریں۔ ان کے مطابق ہر انسان کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوتا ہے، اس لیے دوسروں کی زندگی میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کرنے کے بجائے اپنی زندگی پر توجہ دینی چاہیے۔

راکھی ساونت کی اچانک انٹری نے گانے کو مزید دلچسپ بنا دیا

’پابلو‘ کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا حصہ اس کا اختتامی حصہ ہے، جہاں بھارتی ریئلٹی ٹی وی اسٹار راکھی ساونت کی خصوصی انٹری سامنے آتی ہے۔ راکھی ساونت ہانیہ عامر کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں حوصلہ دیتی ہیں اور ناقدین کی باتوں کو نظر انداز کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔

راکھی ساونت اپنے پیغام میں ہانیہ عامر کی خوبصورتی اور اعتماد کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’حور‘ اور ’شیرنی‘ قرار دیتی ہیں۔ وہ اداکارہ سے کہتی ہیں کہ وہ کسی قسم کا دباؤ یا ٹینشن نہ لیں اور اپنے مخالفین کا بہادری سے سامنا کریں۔ ان کا پیغام بنیادی طور پر ہانیہ عامر کے حوصلے کو بڑھانے اور انہیں تنقید سے متاثر نہ ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔

راکھی ساونت کی یہ خصوصی شرکت اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ دونوں اداکاراؤں کے درمیان پہلے سے دوستانہ تعلقات اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے لیے مثبت پیغامات کا سلسلہ سامنے آتا رہا ہے۔ ’پابلو‘ میں راکھی کی آواز شامل ہونے سے گانے کے اختتام کو ایک غیر متوقع اور دلچسپ انداز ملا ہے۔

ہانیہ عامر کے شوبز سفر میں نیا باب

’پابلو‘ ہانیہ عامر کے شوبز کیریئر میں موسیقی کے حوالے سے ایک نیا باب قرار دیا جا رہا ہے۔ اداکارہ نے تقریباً ایک دہائی پر محیط اپنے شوبز سفر میں اداکاری کے میدان میں نمایاں مقام بنایا اور اب گلوکاری کے ذریعے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک نیا پہلو سامنے لائی ہیں۔

گانے کی خاص بات صرف یہ نہیں کہ ہانیہ عامر نے اس میں اپنی آواز پیش کی بلکہ اس کی تحریر اور کمپوزیشن بھی خود تیار کی۔ یوں ’پابلو‘ ان کے لیے محض ایک گانا نہیں بلکہ اپنی شخصیت اور اپنے خلاف ہونے والی تنقید کو اپنے انداز میں جواب دینے کا ایک تخلیقی ذریعہ بھی بن گیا ہے۔

گانے کے ذریعے ہانیہ عامر نے مجموعی طور پر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے بارے میں ہونے والی تنقید سے باخبر ضرور ہیں لیکن اسے اپنی زندگی پر حاوی نہیں ہونے دیتیں۔ وہ اپنے مداحوں، اپنی شہرت اور اپنے طرزِ زندگی کو اعتماد کے ساتھ پیش کرتے ہوئے مخالفین کو بھی یہی پیغام دیتی ہیں کہ ان کی منفی باتیں ان کے سفر کو روک نہیں سکتیں۔

ہانیہ عامر کا ’پابلو‘ کے ذریعے موسیقی میں قدم رکھنا اس بات کی مثال ہے کہ شوبز کی معروف شخصیات وقت کے ساتھ اپنے فن کے نئے شعبوں کو بھی آزما سکتی ہیں۔ اس گانے کی خاص بات یہ ہے کہ اداکارہ نے صرف گلوکاری نہیں کی بلکہ اسے خود لکھا اور کمپوز بھی کیا۔ گانے میں تنقید کا جواب دینے کا انداز بھی روایتی وضاحتوں کے بجائے موسیقی اور مزاحیہ و پراعتماد انداز میں اختیار کیا گیا ہے۔

عوامی رائے

ہانیہ عامر کے نئے گانے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ مداحوں نے ان کے نئے انداز اور پنجابی ہپ ہاپ کو پسند کیا ہے جبکہ بعض لوگوں کے لیے راکھی ساونت کی اچانک انٹری سب سے زیادہ حیران کن پہلو بنی۔ گانے کے ذریعے ہانیہ عامر کے مداحوں کو ان کی شخصیت کا ایک مختلف تخلیقی پہلو دیکھنے کو ملا ہے۔

ماہرین کی رائے

شوبز سے وابستہ حلقوں کے مطابق کسی معروف اداکار کا موسیقی کے میدان میں قدم رکھنا ایک چیلنج بھی ہوتا ہے کیونکہ مداح اور ناقدین دونوں نئے کام کو اداکاری سے مختلف معیار پر پرکھتے ہیں۔ ہانیہ عامر نے ’پابلو‘ میں روایتی پاپ کے بجائے پنجابی ہپ ہاپ کا انتخاب کرکے اپنے لیے ایک مختلف انداز آزمایا ہے، جس سے ان کے تخلیقی دائرے میں وسعت کا اشارہ ملتا ہے۔

ہانیہ عامر نے ’پابلو‘ کے ذریعے اپنے شوبز سفر میں ایک نیا تجربہ کیا ہے۔ گانے میں ان کا پراعتماد انداز اور ناقدین کو جواب دینے کا طریقہ اسے عام میوزک ریلیز سے مختلف بناتا ہے۔ راکھی ساونت کی خصوصی شرکت نے بھی گانے کے اختتام کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

’پابلو‘ کو صرف ایک گانا سمجھنے کے بجائے ہانیہ عامر کے اپنے انداز میں دیا گیا ایک تخلیقی جواب بھی کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تنقید کا جواب طویل وضاحتوں کے بجائے موسیقی کے ذریعے دیا ہے۔ اگر وہ مستقبل میں بھی اپنی موسیقی میں اسی طرح منفرد انداز برقرار رکھتی ہیں تو یہ ان کے شوبز سفر کا ایک دلچسپ نیا باب ثابت ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین