واشنگٹن/تہران:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران فوجی کارروائی کا امکان دوبارہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے سامنے اب ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا فوجی کارروائی کرنے میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنے کا وقت آگیا ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ یہ معاملہ بہت جلد کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچ سکتا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق امریکا کے سامنے سفارتی معاہدے اور فوجی کارروائی، دونوں راستے موجود ہیں۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ایک طرف فوجی کشیدگی برقرار ہے تو دوسری جانب ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، امریکی پابندیاں اور جنگ بندی کے طریقہ کار سمیت دیگر معاملات شامل ہیں۔
ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ورجینیا کے کوانٹیکو میرین بیس میں فوجی قیادت سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، دفاعی نظام، قیادت اور فوجی صنعتی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کی جوہری صلاحیتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ یہ امریکی وزیر دفاع کے دعوے ہیں، جن کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی کی جانب پیش رفت کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت بعض شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے کو ایک ہفتے کے اندر معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کی تجویز دی گئی تھی۔
ایرانی تجویز میں آبنائے ہرمز کے معاملے کو امریکی پابندیوں، ایرانی منجمد اثاثوں اور بندرگاہوں سے متعلق معاملات کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اس تجویز کو پہلے مسترد کرچکے ہیں، تاہم قطر اور دیگر ثالثوں کے ذریعے دونوں جانب رابطے جاری رہے۔
تازہ پیش رفت میں ایران نے تصدیق کی ہے کہ اسے امریکا کی جانب سے اس کی حالیہ تجویز کا باضابطہ جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی جواب سے صدر مسعود پزشکیان اور کابینہ کو آگاہ کیا ہے۔ جواب کی مکمل تفصیلات فوری طور پر منظرعام پر نہیں لائی گئیں۔
رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں بنیادی طور پر اس بات پر اختلاف باقی ہے کہ ممکنہ معاہدے میں مختلف اقدامات کس ترتیب سے کیے جائیں۔ قطر سمیت ثالثی کرنے والے فریق دونوں ممالک کے درمیان اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ اس تنازع میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی منڈی بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تاہم یکم اکتوبر کی رائٹرز رپورٹ کے مطابق خلیجی برآمدات میں کچھ بحالی اور دیگر عوامل کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ مارکیٹ اب بھی امریکا اور ایران کے سفارتی رابطوں کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
اسی دوران امریکا نے عراق سے اپنے باقی ماندہ فوجیوں کے انخلا کا عمل بھی مکمل کرلیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق عراق میں داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کا آپریشنل مشن اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ ایران نے امریکی انخلا کو اپنے لیے اہم پیش رفت قرار دیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی امریکی فوجیوں کے انخلا کو واشنگٹن کے لیے کامیابی قرار دیا۔
موجودہ صورتحال میں ایک طرف امریکی صدر کی جانب سے فوجی کارروائی کے امکان کا دوبارہ اظہار کیا گیا ہے اور دوسری طرف ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ایرانی تجویز کے جواب کا موصول ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذاکرات کا راستہ ابھی پوری طرح بند نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔
موجودہ صورتحال میں امریکا اور ایران کے بیانات بیک وقت دو مختلف راستوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن کی جانب سے فوجی دباؤ اور کارروائی کے امکان کا ذکر جاری ہے، جبکہ دوسری طرف ثالثی کے ذریعے مذاکرات اور آبنائے ہرمز سے متعلق تجاویز پر بات چیت بھی ہو رہی ہے۔ اس لیے آنے والے دنوں میں اہم سوال یہ ہوگا کہ دونوں فریق اختلافات کو کس حد تک کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کرتے ہیں۔
عوامی رائے
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں بلکہ خطے کی سلامتی، عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی پیش رفت کو عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔
ماہرین کی رائے
موجودہ صورتحال میں مذاکرات کے طریقہ کار، آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت، پابندیوں اور جنگ بندی کی شرائط بنیادی مسائل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رہنے کے باوجود ان معاملات پر اختلافات ختم نہیں ہوئے، جبکہ فوجی بیانات کشیدگی میں اضافے کے امکان کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ صورتحال ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں فوجی دباؤ اور سفارتی رابطے بیک وقت جاری ہیں۔ ایران کی جانب سے امریکی جواب موصول ہونے کی تصدیق کے بعد اب اس جواب کی تفصیلات اور دونوں فریقوں کے اگلے اقدامات اہم ہوں گے۔
فی الحال صورتحال میں حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ٹرمپ نے فوجی کارروائی کا امکان دوبارہ ظاہر کیا ہے، جبکہ ایران کو امریکی جواب بھی موصول ہوچکا ہے اور ثالثی کے ذریعے رابطے جاری ہیں۔ اس لیے آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے عملی اقدامات ہی یہ واضح کریں گے کہ معاملہ مذاکرات کی طرف بڑھتا ہے یا مزید فوجی کشیدگی کی جانب جاتا ہے۔





















