وہ سفر جو آج بھی جاری ہے — عشق، جستجو اور مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ

انسان کی اصل پہچان اس کے کردار اور دوسروں کے لیے اس کی افادیت سے ہوتی ہے

تحریر: محمد وسیم جوکھیو

کچھ سفر منزل تک پہنچنے کے لیے انسان کو خود اس کی ذات سے ملواتے ہیں۔ کچھ راستے دل سے طے ہوتے ہیں، اور کچھ قافلے ایسے ہوتے ہیں جن میں شامل ہونا کسی عہدے، منصب یا شناخت کا نام نہیں ہوتا بلکہ ایک فکر، ایک محبت اور ایک مقصد سے وابستگی کا نام ہوتا ہے۔ مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ کے 32ویں یومِ تاسیس کے موقع پر جب میں اپنے سفر کے اوراق پلٹتا ہوں تو مجھے اپنی زندگی کے کئی منظر ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
میرا تعلق ملیر، کراچی، سندھ کے ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔ کھیتوں کی مٹی، محنت کی خوشبو اور سادہ زندگی کے درمیان پرورش پاتے ہوئے شاید مجھے بہت پہلے یہ احساس ہوگیا تھا کہ انسان کی اصل پہچان اس کے کردار اور دوسروں کے لیے اس کی افادیت سے ہوتی ہے۔ کراچی شہر کی گلیوں اور محلوں میں زندگی کو قریب سے دیکھا تو نوجوانوں کے اندر کچھ کر گزرنے کی بے چینی بھی محسوس کی۔ انہی دنوں مصطفوی مشن کے لیے سرگرم نوجوانوں کو جذبے اور اخلاص کے ساتھ کام کرتے دیکھا تو دل میں خیال آیا کہ اگر یہ نوجوان معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا وقت اور توانائی صرف کر سکتے ہیں تو مجھے بھی اپنے حصے کا چراغ جلانا چاہیے۔ یوں ایک خیال نے عزم کی صورت اختیار کی اور عزم نے مجھے اس قافلے تک پہنچا دیا۔
تقریباً پندرہ برس قبل ملک وسیم اختر، نثار احمد سومرو، حافظ محمد عرفان یوسف اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کراچی کی گلیوں اور محلوں سے اس سفر کا آغاز ہوا۔ وسائل محدود تھے، مگر حوصلے بلند تھے۔ کبھی نوجوانوں سے ملاقاتیں، کبھی تعلیمی اداروں کا رخ، کبھی ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر آئندہ کی حکمتِ عملی پر گفتگو؛ یہی ہمارے شب و روز تھے۔ ان دنوں نے مجھے سکھایا کہ تبدیلی ہمیشہ کثرتِ وسائل سے نہیں آتی، کبھی ایک مخلص کوشش اور مسلسل جدوجہد بھی معاشرے میں نئی سوچ کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔

وہ سفر جو آج بھی جاری ہے — عشق، جستجو اور مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ
الحمدللہ مجھے صدر مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ کراچی کی حیثیت سے خدمت کا موقع ملا۔ میرے لیے یہ کسی منصب سے زیادہ ایک ذمہ داری اور امانت تھی۔ میں نے اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن کوشش کی کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کے فکر و پیغام کو نئی نسل تک پہنچاؤں اور نوجوانوں میں علم، تحقیق، محبتِ رسول ﷺ، امن، کردار اور خدمتِ انسانیت کا شعور اجاگر ہو۔
اس سفر میں چوہدری محمد عرفان یوسف، چوہدری ضیاء الرحمان ضلج انقلابی، رانا تجمل حسین، علی حیدر قریشی اور میاں عنصر محمود کی رفاقت میرے لیے ایک اہم تربیتی مرحلہ رہی۔ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے تنظیمی نظم، ٹیم ورک، تحمل، قیادت اور ذمہ داری جیسے بہت سے اسباق سیکھے۔ کچھ تجربات نے حوصلہ دیا، کچھ غلطیوں نے اصلاح کا موقع فراہم کیا، اور یوں یہ سفر میری شخصیت کی تربیت کا ذریعہ بھی بنتا گیا۔ وقت آگے بڑھا، ذمہ داریاں بدلتی رہیں، مگر مصطفوی فکر سے وابستگی قائم رہی۔
آج مرکزی صدر مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ برادر شیخ فرحان عزیز، سیکریٹری جنرل برادر اسامہ مشتاق اور دیگر مرکزی قائدین اس امانت کو حکمت، اخلاص اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ کراچی میں برادر جواد انصاری اور صوبہ سندھ کی سطح پر برادر محمد یاسر کھوسو ایڈووکیٹ بھی نوجوانوں کو منظم کرنے اور مصطفوی پیغام کو عام کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ نئی نسل کو متحرک دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جو خواب کبھی چند دلوں میں تھا، وہ اب ایک وسیع تر جدوجہد کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
آج کے نوجوان سے میری ایک ہی گزارش ہے کہ تعلیم اور کامیابی کے سفر میں اپنے کردار کو پیچھے نہ چھوڑیں۔ کتاب سے رشتہ جوڑیں، اپنی خداداد صلاحیتوں کو نکھاریں اور انہیں معاشرے کی بہتری کے لیے بھی استعمال کریں۔ سوشل میڈیا کے شور میں اپنی سوچ کی آواز کو گم نہ ہونے دیں۔ یاد رکھیں، ایک باشعور، باکردار اور ذمہ دار نوجوان اپنے اردگرد کے کئی لوگوں کی زندگی بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آج جب اپنے گزشتہ پندرہ برس کے سفر کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ گلیاں، وہ ملاقاتیں، وہ نشستیں اور وہ ساتھی یاد آتے ہیں جنہوں نے اس سفر کو سمت دی۔ بہت کچھ بدل گیا، مگر ایک بات آج بھی اپنی جگہ قائم ہے: اگر ہماری تعلیم، صلاحیت اور تجربہ کسی دوسرے انسان کے کام نہ آئے تو شاید ہماری کامیابی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
میرے لیے مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ کے قافلۂ عشق و مستی سے وابستگی ہمیشہ کا زادِ راہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ آنے والی نسل ہم سے زیادہ علم حاصل کرے، اپنی صلاحیتوں کو مقصد سے جوڑے اور اس قافلے کو مزید وسعت دے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ ہم اپنے بعد آنے والوں کے لیے راستہ پہلے سے زیادہ روشن چھوڑ جائیں، تاکہ وہ اس روشنی کو آگے بڑھاتے ہوئے معاشرے میں محبت، امن، علم، کردار اور خدمت کی نئی روایت قائم کر سکیں۔
حکیم الامت شاعر مشرق علامہ محمداقبالؒ نے کیا خوب فرمایا کہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
وادی مہران کے عظیم صوفی بزرگ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے خوب منظر کشی ہے کہ
مئا منجھ مقام، سڪن ٿا سلام کي،
انگ نه اوڍين ڪپڙو، طلب نه رکن طعام،
الله آڻ قيام، ته ڏسون منھن محبوب جو۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین