خواجہ آصف کی مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید، قومی اسمبلی میں تلخ جملوں کا تبادلہ

خیبر پختونخوا حکومت میں حصہ مل جاتا تو مولانا تقریر نہ کرتے، خواجہ آصف کا دعویٰ

قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان بیانات کے بعد سیاسی کشیدگی مزید نمایاں ہوگئی۔ خواجہ آصف نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے گزشتہ روز کے بیان پر ردعمل دیا اور ان کے سیاسی ماضی، کشمیر کمیٹی کی سربراہی اور مختلف ادوار میں حکومتوں کے ساتھ اشتراک پر سخت تنقید کی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے بیان کا جواب ایوان میں دینا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق مولانا نے موجودہ صورت حال اور حکومت کے طرز عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے ان پر بھی تنقید کی تھی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ مولانا کی جانب سے ان کے لیے تشویش ظاہر کرنے پر وہ شکر گزار ہیں، تاہم تہران میں ہونے والی ملاقاتوں میں ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے بقول تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا۔ خواجہ آصف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے بعد خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل امن کے پیغام کے ساتھ تہران گئے اور علاقائی تنازعات کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے یمن کے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات میں اختلافات کے باوجود وسیع القلبی کا مظاہرہ ضروری ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے سیاسی ماضی پر تنقید

وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں مولانا فضل الرحمان کے سیاسی کردار اور ماضی میں مختلف حکومتوں کے ساتھ ان کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا مختلف ادوار میں اقتدار کا حصہ رہے اور حکومت سازی میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ کسی معاملے پر اپنا مؤقف بیان کرتے ہیں تو انہیں ماضی کی تقاریر یاد دلائی جاتی ہیں، تاہم ان کے بقول سیاسی رہنماؤں کو اپنے ماضی کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ وہ ان سیاست دانوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے ماضی کے بعض مؤقف پر معذرت کی ہے۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی سابقہ حکومتوں میں شمولیت اور لیڈر آف دی اپوزیشن رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی تاریخ کو نظرانداز کرکے مخالفین پر تنقید کرنا مناسب نہیں۔ وزیر دفاع نے کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے دوران مولانا کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ انہیں دس سال تک اس کمیٹی کا چیئرمین رہنے کے باوجود اپنی کارکردگی کی وضاحت کرنی چاہیے۔

’’مذہب اور سیاست کو کمائی کا ذریعہ بنایا‘‘

خواجہ آصف کی تقریر کے دوران جے یو آئی کے ارکان نے احتجاج کیا اور شور شرابا بھی ہوا۔ اس موقع پر وزیر دفاع نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مزید بات کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جے یو آئی نے مذہب اور سیاست کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت کے دوران پیش آنے والے معاملات بھی بیان کریں گے۔

تقریر کے دوران اپوزیشن رکن عالیہ کامران نے ایوان میں کورم کی نشاندہی کی، تاہم کورم پورا نکلا اور کارروائی جاری رہی۔

خواجہ آصف نے جے یو آئی کی خواتین ارکان کے احتجاج پر بھی تبصرہ کیا، جس کے بعد ایوان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں 35 سے 36 سال سے سیاست کر رہے ہیں اور اس دوران مختلف سیاسی حالات دیکھ چکے ہیں۔

جنگ، سفارتی کامیابیوں اور قومی اتحاد کا ذکر

وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں پاکستان کی فوجی اور سفارتی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی اور سفارتی محاذ پر بھی ملک کو اہم مقام ملا۔ ان کے مطابق ایران سمیت مختلف ممالک میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، تاہم ان کے بقول بعض سیاسی حلقوں نے اس کامیابی کی بھرپور تعریف نہیں کی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ارکانِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ گروہی اور ذاتی مفادات کی سیاست کے بجائے ملک کی حفاظت اور ترقی کو ترجیح دیں اور ایک دوسرے سے الجھنے کے بجائے مسائل کے حل کے لیے راستے تلاش کریں۔

خیبر پختونخوا حکومت میں حصہ نہ ملنے کا دعویٰ

خواجہ آصف نے اپنی تقریر کے اختتام کے قریب جے یو آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو محنت کرنی چاہیے اور دوسروں سے حسد نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر جے یو آئی کو خیبر پختونخوا حکومت میں حصہ دے دیا جاتا تو مولانا فضل الرحمان گزشتہ روز ایسی تقریر نہ کرتے۔

خواجہ آصف نے تقریر کے دوران اشعار بھی پڑھے اور کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اختلافات کے باوجود قومی مفاد کے معاملات پر اتفاق پیدا کرنا چاہیے۔ ان کی تقریر میں مولانا فضل الرحمان کے سیاسی ماضی، حکومتی شراکت داری، کشمیر کمیٹی کی کارکردگی اور موجودہ سیاسی اختلافات مرکزی موضوعات رہے۔

خواجہ آصف کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور جے یو آئی کے درمیان اختلافات صرف موجودہ پالیسیوں تک محدود نہیں بلکہ ماضی کی سیاسی شراکت داری اور اقتدار میں حصے داری کے معاملات بھی زیر بحث ہیں۔ تاہم، تقریر میں لگائے گئے الزامات اور سیاسی دعووں کو متعلقہ فریقین کے مؤقف اور دستیاب شواہد کی روشنی میں جانچنا ضروری ہے۔

عوامی رائے

سیاسی مباحث میں عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ اختلافات کا اظہار دلیل اور حقائق کی بنیاد پر کیا جائے۔ پارلیمان میں سخت تنقید سیاسی عمل کا حصہ ہو سکتی ہے، لیکن ذاتی نوعیت کے جملوں اور غیر ثابت شدہ الزامات کے بجائے پالیسی اور کارکردگی پر گفتگو زیادہ مفید رہتی ہے۔

ماہرین کی رائے

پارلیمانی نظام میں حکومت اور اپوزیشن کا مؤثر کردار اسی وقت سامنے آتا ہے جب اختلافات کے باوجود قومی اہمیت کے معاملات پر مکالمہ جاری رہے۔ سیاسی جماعتوں کے ماضی کے فیصلوں اور حکومتی شراکت داری کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، تاہم کسی الزام کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہوتے ہیں۔

قومی اسمبلی عوامی مسائل، حکومتی کارکردگی اور قومی پالیسیوں پر بحث کا اہم فورم ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی کو ذاتی الزامات تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل اور قومی مفاد کے معاملات پر توجہ دیں۔

خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان یہ لفظی کشیدگی حکومت اور جے یو آئی کے سیاسی تعلقات میں موجود اختلافات کو نمایاں کرتی ہے۔ خواجہ آصف نے مولانا کے ماضی اور خیبر پختونخوا میں حکومتی شراکت داری کے معاملے کو تنقید کا موضوع بنایا، جبکہ جے یو آئی کی جانب سے الزامات کے ثبوت طلب کیے گئے۔ اس معاملے میں دونوں فریقین کے مؤقف کو سامنے رکھنا اور سیاسی دعووں کو حقائق سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین