مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی؛ متعدد بھارتی شوبز شخصیات دبئی اور ابوظہبی میں پھنس گئیں

تیلگو انڈسٹری کے سپر اسٹار چیرنجیوی کی بیٹی سریجا کونڈیلا اور ان کی بیٹیاں دبئی میں موجود ہیں۔میڈیا رپورٹ

دبئی / ابوظہبی (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) مشرقِ وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی منسوخی نے ہزاروں مسافروں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ انہی متاثرین میں متعدد بھارتی شوبز شخصیات بھی شامل ہیں جو دبئی اور ابوظہبی میں پھنس گئی ہیں اور اپنی حکومت سے محفوظ وطن واپسی کے لیے مدد کی اپیل کر رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تیلگو انڈسٹری کے سپر اسٹار چیرنجیوی کی بیٹی سریجا کونڈیلا اور ان کی بیٹیاں دبئی میں موجود ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مداحوں کو یقین دہانی کروائی کہ وہ محفوظ ہیں اور مقامی حکام صورتحال کو ذمہ داری سے سنبھال رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس ملک کو اپنے قیام کے لیے منتخب کیا ہے اور وہ یہاں کے نظام پر اعتماد رکھتی ہیں۔

بالی ووڈ اداکارہ ایشا گپتا نے انسٹاگرام اسٹوریز میں بتایا کہ وہ ابوظہبی میں ہیں اور حالات غیر یقینی ضرور ہیں لیکن حکام مسافروں کی مکمل دیکھ بھال کر رہے ہیں۔

اداکارہ نرگس فخری نے بھی اپنی ذہنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دن خاصے ہنگامہ خیز رہے۔ انہوں نے شہر کے مناظر شیئر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ صورتحال ذہنی دباؤ کا باعث بنی ہوئی ہے۔

اسی طرح سونل چوہان نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ تمام پروازیں منسوخ ہونے کے باعث وہ دبئی میں پھنس گئی ہیں اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے محفوظ واپسی کے لیے رہنمائی اور تعاون کی درخواست کی ہے۔

تامل اداکار اجیت کمار بھی اپنی پرواز منسوخ ہونے کے بعد دبئی میں قیام پر مجبور ہوئے۔ ان کے منیجر نے تصدیق کی کہ وہ محفوظ ہیں اور متبادل پرواز کے منتظر ہیں۔

بھارتی ایئرلائنز بشمول Air India اور IndiGo نے بیان جاری کیا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی فضائی راستے محفوظ قرار دیے جائیں گے، پروازیں بحال کر دی جائیں گی۔

علاقائی پس منظر

ماہرین کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کے بعد خلیجی خطے میں فضائی سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ بعض روٹس عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں جبکہ کئی بین الاقوامی پروازیں متبادل راستوں پر منتقل کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف سیاحتی صنعت بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ہوا بازی کے ماہرین کی رائے

ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جنگی کشیدگی کے دوران سب سے پہلا اثر فضائی حدود پر پڑتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایئرلائنز کو خطرناک فضائی زونز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی طویل ہو گئی تو خطے کی ایوی ایشن انڈسٹری کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جہاں مسافر تازہ ترین معلومات کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ صارفین نے شوبز شخصیات کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا جبکہ بعض نے عام مسافروں کی مشکلات کو بھی اجاگر کیا جو بغیر کسی سہولت کے انتظار کر رہے ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عالمی سیاست کے اثرات براہِ راست عام شہریوں تک پہنچتے ہیں۔ ان کے بقول، جب خطے میں عسکری کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا پہلا عملی اثر سفری نظام، سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیرونِ ملک موجود اپنے شہریوں کے لیے بروقت رہنمائی اور متبادل سفری انتظامات یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مشرقِ وسطیٰ عالمی فضائی ٹریفک کے لیے ایک حساس زون بن سکتا ہے، جس کے اثرات ایشیا اور یورپ تک محسوس کیے جائیں گے۔

ان کے مطابق موجودہ بحران وقتی بھی ہو سکتا ہے، تاہم خطے میں طاقت کے توازن کی تبدیلیاں مستقبل میں مزید غیر یقینی صورتحال کو جنم دے سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین