دورہ بنگلادیش خطرے میں؟ سیکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان ٹیم کی روانگی پر سوالیہ نشان

اگر علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا تو متبادل حکمتِ عملی اختیار کی جا سکتی ہے

اسلام آباد / لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) خطے میں حالیہ کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان کرکٹ ٹیم کے متوقع دورۂ بنگلادیش پر غیر یقینی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اور سفری انتظامات کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔

شیڈول کے مطابق تین ون ڈے میچز پر مشتمل سیریز 11، 13 اور 15 مارچ کو ڈھاکا کے شیرِ بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلی جانی ہے، جبکہ قومی اسکواڈ کی روانگی 9 مارچ کو متوقع ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا تو متبادل حکمتِ عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔

سلیکشن میں بڑی تبدیلیوں کا امکان

ورلڈ کپ کے بعد یہ قومی ٹیم کی پہلی اسائنمنٹ ہوگی اور سلیکشن کمیٹی ون ڈے اسکواڈ کے حوالے سے اہم مشاورت کرنے والی ہے۔ ذرائع کے مطابق ون ڈے فارمیٹ کو ترجیح دیتے ہوئے ٹیم کمبی نیشن میں نمایاں تبدیلیاں زیر غور ہیں۔

اطلاعات کے مطابق غیر تسلی بخش کارکردگی دکھانے والے بابر اعظم اور محمد نواز سمیت چند کھلاڑیوں کو ڈراپ کیے جانے کا امکان ہے۔ نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کی حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے، جبکہ صاحبزادہ فرحان کو اسکواڈ میں شامل کیے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ فوری طور پر ٹی ٹوئنٹی سیریز شیڈول نہیں، اس لیے فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جائیں گے، تاہم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کی تیاریوں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

پس منظر اور سیکیورٹی خدشات

علاقائی کشیدگی کے باعث نہ صرف کرکٹ بلکہ دیگر بین الاقوامی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکام سیکیورٹی اداروں اور سفارتی ذرائع سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کھلاڑیوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو سیریز مؤخر یا نیوٹرل وینیو پر منتقل ہونے کا امکان بھی زیر غور آ سکتا ہے۔

کرکٹ ماہرین کی رائے

کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم پہلو کھلاڑیوں کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ بنگلادیش میں کرکٹ کے لیے سازگار ماحول موجود ہے، لیکن علاقائی کشیدگی کے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرنا مستقبل کے لیے بہتر قدم ہو سکتا ہے، تاہم سینئرز کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ تجربہ بڑے ٹورنامنٹس میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر شائقین کی آرا تقسیم دکھائی دیتی ہیں۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ٹیم کو فوری طور پر نوجوان قیادت اور نئے کمبی نیشن کی طرف جانا چاہیے، جبکہ دیگر کے مطابق بابر اعظم جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو ڈراپ کرنا جلد بازی ہوگی۔

کئی شائقین نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دورہ مؤخر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ دورہ صرف ایک سیریز نہیں بلکہ قومی ٹیم کی سمت متعین کرنے کا موقع بھی ہے۔ ان کے بقول، اگر سلیکشن کمیٹی نے کارکردگی کی بنیاد پر سخت فیصلے کیے تو یہ ٹیم کے طویل المدتی مفاد میں ہوگا، تاہم سیکیورٹی خدشات کو اولین ترجیح دینا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں کرکٹ صرف کھیل نہیں بلکہ سفارتی تعلقات اور علاقائی استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اگر صورتحال بہتر رہی تو یہ سیریز ٹیم کے لیے نئی شروعات ثابت ہو سکتی ہے، بصورت دیگر پی سی بی کو محتاط اور ذمہ دارانہ فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ قومی مفاد اور کھلاڑیوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین