ایران دو ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب تھا، حملہ نہ کرتے تو خطرہ بڑھ جاتا: ٹرمپ

کئی ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں اور امریکا کو اس جنگ میں برتری حاصل ہے۔ ٹرمپ

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر بروقت حملہ نہ کیا جاتا تو ایران صرف دو ہفتوں کے اندر ایٹمی ہتھیار بنانے کی پوزیشن میں آ سکتا تھا۔

وائٹ ہاؤس میں گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی امریکی فوج کو مضبوط بنانے پر توجہ دی اور اب انہیں اپنی افواج کی کارکردگی پر فخر ہے۔ ان کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں میں ایرانی میزائل لانچرز اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس سے ایران کے جوہری پروگرام کو نمایاں نقصان پہنچا۔

اوباما کی نیوکلیئر ڈیل پر تنقید

صدر ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما نے ایران کے ساتھ بدترین نیوکلیئر ڈیل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے چار سال قبل اس معاہدے کو ختم کیا کیونکہ اس سے ایران کو خطے میں مزید طاقت مل رہی تھی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حالیہ امریکی حملوں نے ایران کو جوہری پروگرام میں کافی حد تک پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب امریکا اس معاملے میں مضبوط پوزیشن میں ہے۔

ایران پر الزامات

امریکی صدر کے مطابق ایران طویل عرصے سے اپنے پڑوسی ممالک اور اتحادیوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ ان کے بقول امریکی کارروائی کا مقصد خطے میں استحکام قائم کرنا اور عالمی سلامتی کو لاحق خطرات کو کم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "پاگل لوگوں کے ہاتھوں میں ایٹم بم دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے”، اس لیے امریکا نے بروقت کارروائی کی۔

دیگر عالمی معاملات پر بھی گفتگو

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں جاری امریکی آپریشن کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ وہاں حالات بہتر ہو رہے ہیں جبکہ امریکا کو تیل کی فراہمی بھی جاری ہے۔

ان کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں کئی ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں اور امریکا کو اس جنگ میں برتری حاصل ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو صورتحال کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی۔

عالمی ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا اور مغربی ممالک کے خدشات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی سخت بیاناتی جنگ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے بیان کے بعد مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین نے امریکی کارروائی کو عالمی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیاں خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہیں۔

کچھ تجزیہ کاروں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ایران واقعی اتنی تیزی سے ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب تھا یا یہ ایک سیاسی مؤقف ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان نہ صرف امریکی داخلی سیاست بلکہ عالمی سفارت کاری کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول، ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی سیاست کا حساس ترین موضوع رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکا ایران کو ایک بڑا خطرہ قرار دیتا ہے، تاہم فوجی کارروائیوں اور سخت بیانات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے۔

غلام مرتضیٰ کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ صورتحال سفارتی مذاکرات کی طرف جاتی ہے یا مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو مزید بدل دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین