آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی؛ ایران نے عالمی تیل ترسیل روکنے کا عندیہ دے دیا

دنیا نے اب تک صرف میزائل اور ڈرون صلاحیت دیکھی ہے، جبکہ سمندر میں ایران کی اصل طاقت ابھی سامنے نہیں آئی۔ایران

تہران / واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوا تو وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل روک سکتا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ "ایک بوند تیل بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دیں گے۔”

ایران کی طاقتور فوجی تنظیم اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے حکام کے مطابق اگر خطے میں مزید کشیدگی پیدا کی گئی تو ایران نہ صرف سمندری راستے بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اس کے پاس ایسے دفاعی وسائل بھی موجود ہیں جنہیں ابھی ظاہر نہیں کیا گیا۔

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ دنیا نے اب تک صرف میزائل اور ڈرون صلاحیت دیکھی ہے، جبکہ سمندر میں ایران کی اصل طاقت ابھی سامنے نہیں آئی۔

امریکی ردعمل اور بحری نگرانی

امریکی حکام نے ایران کی اس دھمکی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرے گی تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا عالمی تیل کی ترسیل کو ہر قیمت پر محفوظ بنائے گا۔

سمندری واقعہ اور تیل رساؤ

اسی دوران کویت کے قریب ایک بندرگاہ کے نزدیک دھماکے کے بعد ایک کارگو ٹینکر سے سمندر میں تیل رسنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق جہاز کے عملے کو محفوظ نکال لیا گیا ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

عالمی معیشت کے لیے اہم گزرگاہ

آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کو بحرِ عمان سے ملاتی ہے، دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی سمندری تیل ترسیل اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی تیل منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

عالمی ماہرین کی رائے

توانائی اور عالمی معیشت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اس راستے سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل دنیا کے مختلف ممالک کو فراہم کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران واقعی اس راستے کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو تیل کی قیمتیں اچانک کئی گنا بڑھ سکتی ہیں اور عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر اس بیان کے بعد شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کچھ صارفین نے ایران کے مؤقف کو مغربی دباؤ کے خلاف ردعمل قرار دیا، جبکہ دیگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہوئی تو عالمی معیشت شدید بحران میں داخل ہو سکتی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں نے اس صورتحال کو عالمی توانائی جنگ کا پیش خیمہ بھی قرار دیا ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق آبنائے ہرمز پر کشیدگی صرف ایران اور امریکا کے درمیان تنازع نہیں بلکہ عالمی توانائی کے توازن کا مسئلہ ہے۔ ان کے بقول اگر اس اہم سمندری راستے میں خلل پڑتا ہے تو اس کے اثرات ایشیا، یورپ اور امریکا تک محسوس ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال عالمی سفارت کاری کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ، تجارتی رکاوٹیں اور خطے میں مزید عسکری تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

غلام مرتضیٰ کے مطابق آنے والے دنوں میں دنیا کی نظریں خلیج فارس پر مرکوز رہیں گی کیونکہ یہاں ہونے والی ہر پیش رفت عالمی معیشت اور سیاست پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین