اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر بری خبر سامنے آگئی ہے کیونکہ حکومت نے کراچی سمیت پورے پاکستان میں بجلی کی قیمت مزید بڑھا دی ہے۔
حکام کے مطابق بجلی کی قیمت میں 1 روپے 63 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے، جس کا اطلاق جنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق کراچی کے صارفین پر بھی ہوگا جو کے-الیکٹرک کے تحت بجلی استعمال کرتے ہیں۔
نیپرا کا نوٹیفکیشن جاری
بجلی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جاری کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق صارفین سے اس اضافے کی رقم مارچ کے بلوں میں وصول کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ لائف لائن صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ نیپرا نے جنوری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے متعلق سماعت کے بعد یہ فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے اب باضابطہ طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔
مسلسل بڑھتی قیمتیں
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک روز قبل بھی بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا۔ نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 35 پیسے فی یونٹ مہنگی کی تھی۔
ماہرین کے مطابق مسلسل ایڈجسٹمنٹس کے باعث بجلی کے بلوں میں مجموعی اضافہ صارفین کے لیے مزید معاشی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
توانائی ماہرین کی رائے
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ درآمدی ایندھن پر انحصار، روپے کی قدر میں کمی اور پاور سیکٹر کے مالی مسائل ہیں۔
ماہرین کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ایک ایسا نظام ہے جس کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا بوجھ براہ راست صارفین پر منتقل ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے فروغ نہ دیا گیا تو مستقبل میں بجلی مزید مہنگی ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
کئی صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث گھریلو اخراجات بڑھ چکے ہیں اور اب بجلی کے بلوں میں مزید اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں بار بار اضافہ صنعتی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے اور اس کے اثرات روزگار کے مواقع پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان میں توانائی کا بحران صرف قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ساختی چیلنج بھی ہے۔ ان کے بقول پاور سیکٹر میں گردشی قرضہ، درآمدی ایندھن پر انحصار اور ترسیلی نقصانات ایسے عوامل ہیں جو بجلی کی قیمتوں کو مسلسل اوپر لے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات نہ کر سکی تو بجلی کی قیمتوں میں وقفے وقفے سے ہونے والے اضافے عوام کے لیے مستقل معاشی بوجھ بن سکتے ہیں۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق موجودہ حالات میں توانائی کے متبادل ذرائع، بہتر انتظامی حکمت عملی اور مالی اصلاحات ہی وہ راستہ ہیں جو مستقبل میں بجلی کی قیمتوں کو مستحکم کر سکتے ہیں۔





















