کوئٹہ(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)قومی پیغام امن کمیٹی پاکستان کے وفد نے بلوچستان کا تین روزہ اہم دورہ کیا، جس دوران صوبے کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی گئیں اور ملک میں امن و استحکام کے فروغ کے ساتھ ساتھ فتنہ الخوارج کے خلاف جاری فکری و نظریاتی جدوجہد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد کی قیادت ناظم اعلیٰ نظام المدارس پاکستان ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری کر رہے تھے۔

دورے کے دوران وفد نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز خان بگٹی سے تفصیلی ملاقات کی جس میں صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری قومی بیانیے اور نوجوان نسل کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھنے کے اقدامات پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری نے شیخ الاسلام کی جانب سے جاری کردہ علمی و تحقیقی مبسوط فتویٰ ’’دہشت گردی اور فتنہ الخوارج‘‘ وزیر اعلیٰ کو پیش کیا اور کہا کہ اس فتویٰ کا مقصد عوام بالخصوص طلبہ و نوجوانوں کو گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھتے ہوئے ان کی فکری و نظریاتی رہنمائی کرنا ہے۔
وفد نے کور کمانڈر 12 کور بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان سے بھی ملاقات کی، جہاں انہیں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر طویل اور تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس دوران سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی جس میں قومی امن بیانیے کے فروغ اور فتنہ الخوارج کے خلاف جاری جنگ میں نوجوانوں کی فکری واضحیت کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری نے اس موقع پر شیخ الاسلام کا مبسوط فتویٰ ’’دہشت گردی و فتنہ الخوارج‘‘ کور کمانڈر کو بھی پیش کیا۔

قومی پیغام امن کمیٹی کے وفد نے گورنر بلوچستان سردار جعفر خان مندوخیل سے بھی ملاقات کی اور انہیں بھی مذکورہ فتویٰ پیش کیا۔ ملاقات میں صوبے میں بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور امن کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔
دورے کے دوسرے روز وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے کمیٹی کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں صوبائی وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران، سیکرٹریز اور مختلف محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس موقع پر باہمی مشاورت کے ذریعے صوبے میں امن، ترقی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد کو سول سیکرٹریٹ میں سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں ڈی جی آر ای کے تحت مدارس اور مساجد کی رجسٹریشن کے نظام کو مؤثر بنایا گیا ہے اور اس حوالے سے پیش رفت تسلی بخش ہے۔ بریفنگ کے دوران مدارس کے انتظامی ڈھانچے اور حکومتی نگرانی کے نظام سے متعلق مختلف امور پر بھی گفتگو ہوئی۔
قومی پیغام امن کمیٹی کے اراکین نے آئی جی بلوچستان طاہر خان کے ہمراہ یادگارِ شہداء پر حاضری دی، جہاں شہداء کے احترام میں پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور ملک و قوم کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

بعد ازاں پولیس ہیڈکوارٹر میں ایڈیشنل آئی جی آغا محمد یوسف نے وفد کو صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر وفد نے پولیس افسران اور اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
وفد نے پولیس ہیڈکوارٹر میں شہداء کی فیملیز سے ملاقات بھی کی اور ان سے تعزیت اور اظہار یکجہتی کیا۔ کمیٹی کی جانب سے شہداء کے بچوں کی تعلیم کے لیے خصوصی اسکالرشپ کا اعلان بھی کیا گیا تاکہ ان خاندانوں کی ہر ممکن حوصلہ افزائی اور معاونت کی جا سکے۔
دورے کے اختتام پر قومی پیغام امن کمیٹی کے اراکین اور بلوچستان کے چاروں مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کرام نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ملک میں امن، اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ علماء کرام نے اس بات پر زور دیا کہ فتنہ الخوارج اور دہشت گردی کے خلاف فکری و نظریاتی محاذ پر بھی بھرپور جدوجہد جاری رکھی جائے گی تاکہ نوجوان نسل کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھا جا سکے۔





















