لاہور(تحریک نیوز)منہاج یونیورسٹی لاہورکے سینٹر فار حلال بیداری شعور، ریسرچ اینڈ ٹریننگ (CHART)کے زیر اہتمام تیسری ’’عالمی حلال انڈسٹری سمٹ‘‘کا انعقاد ہوا۔ سمٹ میں ملکی و بین الاقوامی ماہرین، پالیسی سازوں اور حلال صنعت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ سمٹ کے چیف آرگنائزرز رجسٹرار منہاج یونیورسٹی و ڈائریکٹر CHART پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد اور ڈپٹی ڈائریکٹر CHART ڈاکٹر منیر حسین تھے۔معاون منتظمین میں نظام المدارس پاکستان، اسکول آف فارمیسی، منہاج حلال سرٹیفیکیشن (MHC)، اسکول آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اسکول آف ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹکس اور کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز شامل تھے۔
تیسرے عالمی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے منہاج یونیورسٹی لاہور کے ڈپٹی چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ریسرچ پیپر پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2.5ٹریلین ڈالر کی ورلڈ حلال اکانومی میں پاکستان کا ایکسپورٹ شیئر صرف 512ملین ڈالر ہے۔ غیر اسلامی ملک برازیل سالانہ 6ارب ڈالر کمارہا ہے۔ 2034ء تک ورلڈ حلال اکانومی کا مالیاتی حجم 6 ٹریلین ڈالر سے بڑھ جائے گا۔پاکستان میں اس ابھرتی ہوئی اقتصادی مارکیٹ سے بھرپور استفادہ کے لئے خودمختار حلال اتھارٹی کا قیام ناگزیرہے۔ پاکستان میں حلال اتھارٹی بل 2016ء میں منظورہوا، دس سال سے مشاورت جاری ہے کہ یہ اتھارٹی کس کے ماتحت ہو گی؟،حلال اکانومی سالانہ 9.1فیصد کی شرح سے ترقی کررہی ہے جو کسی بھی بزنس سے بہت آگے ہے۔ دنیا کو حلال اور ہائی جین اشیاء یعنی پاکیزگی کا تصور اسلام نے دیا مگر اس حوالے سے اسلامی ملک بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ نصف درجن وزارتوں کے اجازت ناموں کے مشقت طلب پراسیس کی وجہ سے پاکستان میں حلال انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے۔ یہ رکاوٹیں ختم کرنے کے لئے خودمختار اتھارٹی کا قیام ضروری ہے جبکہ ملائیشیا ،سنگاپور ،سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات حلال سرٹیفکیشن اور حلال سپلائی چین کے لئے بلاک چین اورمصنوعی ذہانت سے مدد لے رہے ہیں۔
پاکستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہے یعنی 24 کروڑ سے زائد پاکستان کے پاس دنیا کا پانچواں بڑا مویشیوں کا ذخیرہ ہے۔10 کروڑ سے زائد گائیں،بھینسیں اور 11 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ بھیڑ بکریاں ہیں اور اس سب سے بڑھ کر نوجوانوں پر مشتمل 60 فیصد سے زائدتوانا آبادی، وسیع و عریض زرخیز زمینیں اور قدرتی چراگاہیں جو ایشیا میں بہترین معیار کا مٹن پیدا کرتی ہیں، پاکستان ایک ایسا خطہ ہے جو وسطی ایشیا،مشرقی وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو جوڑتا ہے اور بہترین بری و بحری ذرائع آمدروفت پاکستان کی ایک اہم قوت ہیںاللہ کی ان قدرتی نعمتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ پروگرام کی موڈریشن کے فرائض حذیفہ شبیر، طوبیٰ خانم اور اریبہ مظفر نے انجام دیے۔سمٹ میں عالمی سطح کے ممتاز مندوبین شریک ہوئے جن میں ترکیہ سے احسان اوٹ،ملائیشیا سے محمدفوضی ابو حسین،اقوام متحدہ سے جیمز رابرٹ اوکت شامل تھے۔ مقررین نے سمارٹ ٹیکنالوجی، بلاک چین اور پائیدار لاجسٹکس کے ذریعے عالمی حلال سپلائی چین کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ملکی سطح پر ڈاکٹر یاسر سلیم، ڈاکٹر محمد شعیب، ڈی جی فوڈ پنجاب محمد عاصم جاوید اور پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل سے عتیق الرحمن میمن نے خطاب کیا۔مقررین نے حلال مینوفیکچرنگ میں گرین انوویشن، سرکلر اکانومی اور بین الاقوامی ایکریڈیٹیشن کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے امکانات پر روشنی ڈالی۔سمٹ کے دوران ایک اہم پینل ڈسکشن کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں حلال انڈسٹری کے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔پینل میں صنعتی ڈیجیٹلائزیشن، سپلائی چین کی شفافیت اور پائیدار پیداواری نظام کے نفاذ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سمٹ کے اختتام پر ڈپٹی ڈائریکٹر CHART ڈاکٹر منیر حسین نے شرکاء، عالمی مندوبین اور تعاون کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حلال انڈسٹری میں تحقیق، تربیت اور جدت کا یہ سفر جاری رکھا جائے گا۔





















