لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ بجلی کا شارٹ فال 5 ہزار میگاواٹ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملک میں بجلی کی مجموعی کمی 5 ہزار 726 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پیداوار 14 ہزار 274 میگاواٹ اور طلب تقریباً 20 ہزار میگاواٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاور ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق پن بجلی سے 1 ہزار 530 میگاواٹ، تھرمل ذرائع سے 7 ہزار 814 میگاواٹ، سولر توانائی سے 450 میگاواٹ اور ہوا سے 1 ہزار 490 میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔
اسے بھی پڑھیں: ’’2.5ٹریلین ڈالر کی ورلڈ حلال اکانومی میں بزنس شیئر کیلئے خودمختار اتھارٹی ناگزیر‘‘
اسی طرح جوہری بجلی گھروں سے 2 ہزار 890 میگاواٹ اور بگاس پاور پلانٹس سے 100 میگاواٹ بجلی قومی نظام میں شامل کی جا رہی ہے، تاہم پیداوار اور طلب کے درمیان واضح فرق برقرار ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ لوڈشیڈنگ شیڈول پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا، جبکہ لاہور سمیت لیسکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں رات بھر شدید لوڈشیڈنگ دیکھنے میں آئی۔
ذرائع کے مطابق لیسکو ریجن میں رات کے وقت بجلی کی طلب 2 ہزار 900 سے 3 ہزار میگاواٹ کے درمیان رہی، جبکہ شام کے اوقات میں شارٹ فال اوسطاً 850 سے 900 میگاواٹ تک ریکارڈ کیا گیا۔
شہری علاقوں میں 3 سے 4 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 6 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ محض ایک وقتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ مجموعی توانائی نظام کے اندر موجود گہرے ڈھانچہ جاتی مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق بجلی کا شارٹ فال 5 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ طلب اور رسد کے درمیان بڑھتا ہوا فرق عام صارف کے لیے طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کا توانائی شعبہ بیک وقت پیداواری، انتظامی اور مالیاتی دباؤ کا شکار ہے۔
اگر بجلی کی پیداوار کے ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مختلف ذرائع جیسے پن بجلی، تھرمل، سولر، ہوا، جوہری اور بگاس سے مجموعی طور پر بجلی حاصل کی جا رہی ہے، مگر ان سب کے باوجود طلب پوری نہیں ہو پا رہی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پیداوار کا انحصار اب بھی مہنگے اور غیر مستقل ذرائع پر زیادہ ہے، خاص طور پر تھرمل پاور جو مہنگے ایندھن کی وجہ سے نہ صرف بجٹ پر بوجھ ڈالتی ہے بلکہ بجلی کی لاگت بھی بڑھاتی ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ ترسیلی نظام کی کمزوری ہے۔ بجلی پیدا ہونے کے باوجود اسے مؤثر طریقے سے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ پرانا گرڈ سسٹم، لائن لاسز اور چوری جیسے عوامل مجموعی بجلی کے ایک بڑے حصے کو ضائع کر دیتے ہیں، جس کا بوجھ براہ راست صارفین پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات پیداوار نسبتاً بہتر ہونے کے باوجود بھی لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہو پاتی۔
مزید یہ کہ طلب میں تیزی سے اضافہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ آبادی میں اضافہ، شہری علاقوں کی توسیع اور صنعتی سرگرمیوں میں اتار چڑھاؤ نے بجلی کی طلب کو مسلسل بڑھا دیا ہے۔ تاہم اس کے مقابلے میں پیداوار اور انفراسٹرکچر کی ترقی اسی رفتار سے نہیں ہو سکی۔
حکومتی سطح پر اگرچہ مختلف پاور پلانٹس اور توانائی منصوبے شامل کیے جا رہے ہیں، لیکن ان کی منصوبہ بندی میں طویل المدتی حکمت عملی کی کمی نظر آتی ہے۔ توانائی کے شعبے میں بار بار پالیسیوں کی تبدیلی، گردشی قرضہ اور مالی مسائل بھی اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
اب اگر اس مسئلے کے حل پر بات کی جائے تو سب سے پہلے توانائی کے ذرائع میں توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ ملک کو تھرمل انحصار سے نکل کر ہائیڈل، سولر اور ونڈ جیسے سستے اور قابلِ تجدید ذرائع کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا۔ یہ تبدیلی نہ صرف بجلی کی لاگت کم کرے گی بلکہ مستقبل میں توانائی کے استحکام کو بھی یقینی بنائے گی۔
دوسرا اہم حل ترسیلی نظام کی مکمل اپ گریڈیشن ہے۔ جدید گرڈ اسٹیشنز، اسمارٹ میٹرنگ سسٹم اور لائن لاسز میں کمی کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر بجلی کی ترسیل میں ہونے والے نقصانات کو کم کر لیا جائے تو موجودہ پیداوار سے بھی کافی حد تک بہتری لائی جا سکتی ہے۔
تیسرا قدم توانائی کے شعبے میں شفافیت اور اصلاحات ہیں۔ بجلی چوری کے خلاف سخت کارروائی، بلوں کی بروقت وصولی اور گردشی قرضے کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر کوئی بھی اصلاحی منصوبہ دیرپا ثابت نہیں ہو سکتا۔
چوتھا اہم پہلو توانائی کی بچت ہے۔ صنعتی، تجارتی اور گھریلو سطح پر بجلی کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کے لیے آگاہی مہمات اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے صرف کنزرویشن پالیسی کے ذریعے اپنے توانائی بحران پر کافی حد تک قابو پایا ہے۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کا توانائی بحران کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی باہم جڑے ہوئے مسائل کا مجموعہ ہے۔ اگر مربوط حکمت عملی، تسلسل کے ساتھ اصلاحات اور سیاسی وابستگی سے بالاتر فیصلے کیے جائیں تو نہ صرف لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ ملک کو توانائی کے استحکام کی طرف بھی لے جایا جا سکتا ہے۔





















