لندن: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کو سنگین صحت کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جن میں Type 2 Diabetes، دل کے امراض، کولیسٹرول کا عدم توازن اور ہارمونز کی خرابی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق رات کے اوقات میں کام کرنے سے جسم کا قدرتی نظام یعنی Circadian Rhythm متاثر ہوتا ہے، جو ہماری نیند، ہارمونز اور جسمانی افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
تحقیق کے مطابق رات کی شفٹ کرنے والے تقریباً 77 فیصد افراد میں انسولین مزاحمت پائی گئی، جو ٹائپ 2 ذیابیطس کی ابتدائی علامت ہے، جبکہ دن میں کام کرنے والوں میں یہ شرح 62 فیصد رہی۔
یہ فرق واضح کرتا ہے کہ رات کی ڈیوٹی جسمانی نظام پر کس حد تک منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
دل اور کولیسٹرول پر اثرات
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ رات کو کام کرنے والوں میں:
- ٹرائی گلیسرائیڈز کی سطح زیادہ
- مفید کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کم
یہ دونوں عوامل دل کی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھاتے ہیں۔
ہارمونز کا بگاڑ
ماہرین کے مطابق رات کی شفٹ ہارمونز کے توازن کو بھی متاثر کرتی ہے:
- مردوں میں ٹیسٹو اسٹیرون کی سطح کم
- خواتین میں ایسٹروجن کی مقدار زیادہ
یہ تبدیلیاں جسم کے مجموعی نظام پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
وٹامن ڈی کی کمی بھی عام
رات کو کام کرنے والے افراد میں وٹامن ڈی کی کمی زیادہ دیکھی گئی، جس کی بڑی وجہ دھوپ سے کم واسطہ ہے۔
یہ کمی ہڈیوں کی کمزوری اور مدافعتی نظام کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رات کی شفٹ ناگزیر ہو تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے:
- مکمل اور معیاری نیند
- متوازن غذا
- باقاعدہ ورزش
- پانی کا مناسب استعمال
- ذہنی دباؤ کم کرنے کے طریقے (جیسے مراقبہ)
- باقاعدہ طبی معائنہ
یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ رات کی نوکری محض ایک معمولی طرزِ زندگی نہیں بلکہ ایک ایسا عنصر ہے جو طویل مدت میں صحت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔
جدید دور میں جہاں رات کی شفٹ عام ہو چکی ہے، وہاں اس کے اثرات کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
اگرچہ احتیاطی تدابیر سے کچھ حد تک نقصان کم کیا جا سکتا ہے، لیکن مستقل طور پر رات کی ڈیوٹی اختیار کرنا جسمانی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔





















