دنیا نے امریکا کی منافقت دیکھ لی،مذاکرات میں تعطل کی وجہ امریکا ہے :ایرانی صدر

مسلسل دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں اور کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے،ایران

تہران: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایرانی صدر Masoud Pezeshkian نے ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات میں تعطل پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی ہٹ دھرمی، وعدہ خلافی اور دھمکی آمیز رویہ مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں، جس کے باعث پیش رفت ممکن نہیں ہو پا رہی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے واضح کیا کہ امریکا نے نہ صرف ایرانی بحریہ کے خلاف ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے بلکہ مسلسل دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں اور کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، جس سے اعتماد کا فقدان پیدا ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی عوامل کسی بھی حقیقی اور جامع مذاکرات کے لیے بنیادی رکاوٹ ہیں اور جب تک یہ مسائل حل نہیں ہوتے، مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن نہیں۔

صدر پزیشکیان نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ مکالمے اور معاہدے کا حامی رہا ہے اور اب بھی ہے، تاہم دنیا امریکا کی منافقانہ بیان بازی اور اس کے دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان واضح تضاد کو دیکھ رہی ہے، جس سے سفارتی عمل کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے حالیہ بیان میں ایران پر حملہ مؤخر کرنے اور جنگ بندی میں توسیع کا عندیہ دیا تھا، تاہم اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایران کا یہ سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اب مذاکرات میں واضح ضمانتیں چاہتا ہے اور محض بیانات پر انحصار کرنے کو تیار نہیں، جبکہ امریکا کی جانب سے دباؤ اور سفارتکاری کا ملا جلا طریقہ اپنایا جا رہا ہے، جس کے باعث مذاکراتی عمل غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین