تحریر: ایم اے زیب رضا خان
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی تباہی ہمیشہ بیرونی حملوں سے نہیں ہوتی بلکہ اندرونی ناانصافی، اقرباء پروری، بددیانتی اور میرٹ کے قتل سے جنم لیتی ہے۔ ایٹم بم، میزائل اور جنگیں وقتی نقصان تو پہنچا سکتی ہیں مگر کسی قوم کی اصل تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کے اداروں سے انصاف اٹھ جاتا ہے، اہل افراد کو دیوار سے لگا دیا جاتا ہے اور سفارش و تعلق داری کو قابلیت پر فوقیت دی جانے لگتی ہے۔ یہی وہ فکری نکتہ ہے جسے ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے نہایت بصیرت کے ساتھ اجاگر کیا کہ اگر صرف ایٹم بم قوموں کو مٹا دیتے تو جاپان آج دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں شامل نہ ہوتا۔
جاپان کی مثال دراصل پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں کے بعد دنیا نے سمجھا کہ شاید یہ ملک دوبارہ کبھی کھڑا نہ ہو سکے گا، مگر جاپانی قوم نے نظم و ضبط، دیانت، میرٹ اور اجتماعی شعور کے ذریعے اپنی تقدیر بدل دی۔ آج وہی جاپان ٹیکنالوجی، معیشت اور تعلیم کے میدان میں دنیا کے لیے مثال بنا ہوا ہے۔ اس کے برعکس وہ ممالک جہاں سفارش، کرپشن اور اقرباء پروری نے اداروں کو اپنی لپیٹ میں لیا، وہاں وسائل ہونے کے باوجود غربت، بے یقینی اور زوال نے ڈیرے ڈال لیے۔
اسلام نے بھی اجتماعی نظام کی بنیاد عدل اور اہلیت پر رکھی ہے۔ قرآن مجید کا واضح حکم ہے کہ امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کی جائیں۔ یہ محض ایک مذہبی ہدایت نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی، سیاسی اور انتظامی اصول ہے۔ جب ذمہ داریاں نااہل افراد کے سپرد کی جاتی ہیں تو ادارے کمزور، فیصلے متنازع اور عوام مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو تباہی کا انتظار کرو۔ اس ایک فرمان میں ریاست، معاشرہ اور نظام حکومت کی کامیابی کا پورا فلسفہ موجود ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر میرٹ کو ذاتی تعلقات، سیاسی مفادات اور مالی اثر و رسوخ کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ تعلیم سے لے کر ملازمتوں تک اور اداروں سے لے کر سیاست تک، ہر جگہ سفارش کا کلچر اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ باصلاحیت نوجوان مایوسی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ جب ایک ذہین طالب علم صرف وسائل یا سفارش نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جائے اور ایک نااہل شخص تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھ جائے تو اس سے صرف ایک فرد نہیں بلکہ پوری قوم کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔ یہی ناانصافیاں آگے چل کر ادارہ جاتی کمزوری، معاشی بحران اور سماجی انتشار کو جنم دیتی ہیں۔
ترقی یافتہ اقوام کا راز ان کے وسائل سے زیادہ ان کے نظام انصاف اور میرٹ میں پوشیدہ ہے۔ وہاں قانون طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں ہوتا ہے، ادارے ذاتی خواہشات کے بجائے اصولوں کے تحت چلتے ہیں اور عہدے صرف قابلیت کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں عوام کا ریاست پر اعتماد مضبوط رہتا ہے۔ اعتماد ہی کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے، اور جب یہ اعتماد ٹوٹ جائے تو قومیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔
پاکستان آج جن مشکلات سے دوچار ہے ان کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اجتماعی طور پر میرٹ اور انصاف کو کمزور کیا۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی۔ اداروں کو سیاسی و ذاتی اثر سے پاک کرنا، تعلیم اور روزگار میں شفافیت لانا، اور ہر سطح پر انصاف کو یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
قوموں کی تعمیر صرف بلند نعروں، جذباتی تقریروں یا طاقتور ہتھیاروں سے نہیں ہوتی بلکہ انصاف، دیانت اور میرٹ کے اصولوں سے ہوتی ہے۔ جب ایک قوم اپنے اہل لوگوں کو آگے لاتی ہے تو ترقی اس کا مقدر بن جاتی ہے، مگر جب سفارش اور اقرباء پروری فیصلوں پر غالب آ جائے تو زوال اس کا انجام بن جاتا ہے۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم انصاف اور میرٹ کے راستے پر چل کر ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں یا نااہلی اور مفاد پرستی کے اندھیروں میں بھٹکتے رہنا چاہتے ہیں۔





















