ایران پر حملہ آج ہونا تھا مگر سعودی عرب، قطر اور امارات نے روک دیا، ٹرمپ

ممکنہ معاہدے کی سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔امریکی صدر

واشنگٹن / ریاض / دوحہ (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر Donald Trump نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا آج ایران پر فوجی حملہ کرنے والا تھا، تاہم Saudi Arabia، United Arab Emirates اور Qatar کی قیادت کی درخواست پر یہ کارروائی مؤخر کر دی گئی۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل تھیں اور امریکی عسکری قیادت کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔

ٹرمپ کے مطابق قطر کے امیر Tamim bin Hamad Al Thani، سعودی ولی عہد Mohammed bin Salman اور اماراتی صدر Mohamed bin Zayed Al Nahyan نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ایک قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ممکنہ معاہدے کی سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth اور عسکری حکام کو فی الحال حملہ روکنے کی ہدایت دے دی گئی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سب کیلئے قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکی فوج کسی بھی وقت ایران پر حملہ کر سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ اور فضائیہ کو خلیج میں ہائی الرٹ پر رکھا گیا تھا جبکہ اسرائیل بھی ممکنہ مشترکہ کارروائی پر غور کر رہا تھا۔

ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کسی بڑے جنگی تصادم سے بچنا چاہتے ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ پورے خطے، عالمی تیل تجارت اور معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات خطے میں جنگ کے ممکنہ اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں، اسی لیے وہ سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم شروع ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی شدید اثر پڑ سکتا ہے۔

ان کے مطابق خلیجی قیادت کی مداخلت ظاہر کرتی ہے کہ عرب ممالک اب خطے میں بڑے جنگی بحران سے بچنے کیلئے زیادہ فعال سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی۔

کئی صارفین نے خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ روکنا خطے کے مفاد میں ہے۔

بعض افراد نے ٹرمپ کے بیان کو دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دیا جبکہ کچھ صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ صورتحال اب بھی خطرناک مرحلے میں موجود ہے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر تیل مارکیٹ اور معاشی حلقوں میں بھی اس خبر کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اگر دوبارہ بڑھی تو آبنائے ہرمز، عالمی توانائی سپلائی اور مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کی حالیہ سفارت کاری اس بات کی عکاس ہے کہ وہ ایران امریکا تنازع کو مکمل جنگ میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خطے میں دوبارہ شدید عسکری کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

کیا خلیجی سفارت کاری امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کو مستقل طور پر روک پائے گی؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین