لاہور (خصوصی سروے:روزنامہ تحریک)گورنمنٹ گریجویٹ کالج ایم بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور کے سینکڑوں طلبہ و طالبات پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فری ٹرانسپورٹ سہولت سے محروم ہیں، جس کے باعث متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
روزنامہ تحریک کے خصوصی سروے کے مطابق اکبر چوک سے ماڈل ٹاؤن موڑ تک کے علاقے میں سرکاری فری ٹرانسپورٹ کا دائرہ نہ ہونے کے باعث طلبہ روزانہ مہنگے کرایوں یا نجی سواریوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
کالج انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پنجاب اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس روٹ کو فوری طور پر فری ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں شامل کیا جائے۔
ایک پروفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایایہ روٹ تعلیمی اداروں سے جڑا ہوا ہے، لیکن سہولت نہ ہونے کے باعث طلبہ کی بڑی تعداد روزانہ مشکلات کا شکار ہے۔
طلبہ نے روزنامہ تحریک کے سروے میں اپنے مسائل کھل کر بیان کیے۔ ایک طالبہ نے کہاہمیں روزانہ کالج آنے اور جانے کے لیے دو یا تین سو روپے کرایہ دینا پڑتا ہے، جو ہمارے لیے بہت بڑا بوجھ ہے۔
ایک اور طالب علم نے بتایا کہ میٹرو اور الیکٹرک بسیں قریب سے گزرتی ہیں مگر ہمارے علاقے تک ان کا روٹ نہیں آتا، جس سے ہم خود کو نظر انداز سمجھتے ہیں۔
ماڈل ٹاؤن اور ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں نے بھی اس مسئلے کی حمایت کی ہے۔مقامی شہری کا کہنا تھا کہ یہ روٹ اگر شامل کر لیا جائے تو نہ صرف طلبہ کو سہولت ملے گی بلکہ ٹریفک کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔
ایک دکاندار نے کہاروزانہ درجنوں طلبہ رکشوں اور مہنگی سواریوں پر انحصار کرتے ہیں، حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔ٹرانسپورٹ امور کے ماہرین کے مطابق لاہور میں فری اور سبسڈی والی ٹرانسپورٹ سروسز کا دائرہ اگر تعلیمی اداروں تک بڑھایا جائے تو اس سے تعلیمی شرح پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے اور متوسط طبقے کا مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
سروے میں سامنے آنے والے حقائق کے بعد طلبہ، اساتذہ اور اہل علاقہ نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اکبر چوک سے ماڈل ٹاؤن موڑ تک فری ٹرانسپورٹ روٹ فوری شامل کیا جائے،گورنمنٹ گریجویٹ کالج ایم بلاک کو میٹرو اور الیکٹرک بس نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے،متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے خصوصی سہولت کارڈ متعارف کرایا جائےیہ مسئلہ محض ٹرانسپورٹ کا نہیں بلکہ تعلیم تک مساوی رسائی کا ہے۔ اگر حکومت فوری اقدامات کرے تو نہ صرف طلبہ کو ریلیف ملے گا بلکہ شہر کے ٹرانسپورٹ نظام میں بھی بہتری آئے گی۔





















