
(ڈاکٹر منیر حسین ، ڈپٹی ڈائریکٹر CHART)
گزشتہ چند برسوں کے دوران حلال انڈسٹری نے عالمی معیشت میں غیر معمولی ترقی کرتے ہوئے ایک مضبوط اور بااثر اقتصادی شعبے کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ ماہرین کے مطابق حلال انڈسٹری اب صرف مذہبی ضرورت نہیں رہی بلکہ یہ عالمی معیار، شفافیت، فوڈ سیفٹی اور اخلاقی کاروباری اصولوں کی علامت بن چکی ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق عالمی حلال مارکیٹ تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے، جس میں حلال خوراک، ادویات، کاسمیٹکس، سیاحت، لاجسٹکس، فیشن اور اسلامی مالیات جیسے شعبے شامل ہیں۔ دنیا کے کئی غیر مسلم ممالک بھی حلال مصنوعات کی تیاری اور برآمدات میں نمایاں دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ حلال مصنوعات کو محفوظ، معیاری اور قابلِ اعتماد تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر مسلم آبادی میں اضافہ، صارفین میں شعور کی بیداری اور معیاری مصنوعات کی طلب حلال انڈسٹری کی ترقی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، ای کامرس اور بین الاقوامی حلال سرٹیفیکیشن سسٹمز نے بھی اس شعبے کو عالمی منڈی میں مزید مستحکم کیا ہے۔پاکستان کے لیے حلال انڈسٹری ایک اہم معاشی موقع تصور کیا جا رہا ہے۔ زرعی وسائل، فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری اور اسلامی تشخص کی بدولت پاکستان عالمی حلال مارکیٹ میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس مقصد کے لیے معیاری تحقیق، جدید تربیت، عالمی سطح کے سرٹیفیکیشن نظام اور حکومتی سرپرستی ناگزیر ہیں۔
اس ضمن میں تعلیمی و تحقیقی ادارے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ منہاج یونیورسٹی لاہور کے سنٹر فار حلال اوئیرنیس، ریسرچ اینڈ ٹریننگ (CHART) سمیت مختلف ادارے حلال تعلیم، تحقیق، تربیت اور آگاہی کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان اداروں کی جانب سے کانفرنسز، ریسرچ جرنلز، تربیتی پروگرامز اور سیمینارز کے ذریعے نوجوانوں اور صنعتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔
تحقیقی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان حلال انڈسٹری کو قومی اقتصادی پالیسی کا حصہ بنائے تو یہ شعبہ نہ صرف برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔





















