لاہور / راولپنڈی (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)Pakistan national cricket team اور Australia national cricket team کے درمیان ہونے والی تین میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز کیلئے قومی ٹیم کے اعلان کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سلیکشن کمیٹی نے ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں پر مشاورت شروع کر دی ہے جبکہ بنگلادیش کے خلاف ون ڈے سیریز کھیلنے والی ٹیم میں تین سے چار تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سینئر بیٹر Babar Azam کی ٹیم میں واپسی متوقع ہے جبکہ نوجوان کھلاڑی سفیان مقیم اور حنین شاہ کو بھی موقع دیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ آئندہ بڑے ایونٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں اور تجربہ کار کرکٹرز کے امتزاج پر غور کر رہی ہے۔
پاکستان وائٹ بال اسکواڈ کا تربیتی کیمپ لاہور میں جاری ہے، جس کا کل آخری روز ہوگا۔ قومی کرکٹرز کو 22 مئی کو راولپنڈی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری جانب آسٹریلوی ٹیم 23 مئی کو اسلام آباد پہنچے گی۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ون ڈے 30 مئی کو Rawalpindi Cricket Stadium میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا اور تیسرا میچ لاہور میں 2 اور 4 جون کو شیڈول ہے۔
سیریز کے ٹکٹوں کی آن لائن فروخت 22 مئی سے شروع کی جائے گی۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف سیریز پاکستان کیلئے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں قومی ٹیم کی کارکردگی غیر مستقل رہی ہے، اسی لیے سلیکشن کمیٹی نئے کمبی نیشنز آزمانا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم جیسے تجربہ کار بیٹر کی واپسی بیٹنگ لائن کو استحکام دے سکتی ہے جبکہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا مستقبل کی منصوبہ بندی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
ان کے مطابق آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف سیریز سے پاکستان کو اپنی خامیوں اور مضبوطیوں کا بہتر اندازہ ہو سکے گا۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر شائقینِ کرکٹ نے بابر اعظم کی ممکنہ واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔
کئی صارفین نے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کے فیصلے کو مثبت قرار دیا جبکہ بعض افراد نے ٹیم میں مستقل مزاجی نہ ہونے پر تنقید بھی کی۔
کچھ مداحوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان آسٹریلیا کے خلاف جارحانہ کرکٹ کھیلے گا۔
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
کرکٹ ماہرین کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز قومی ٹیم کیلئے تیاری اور کمبی نیشن بنانے کا اہم موقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی بولنگ اٹیک اگر ردھم میں آیا تو آسٹریلیا کیلئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، تاہم بیٹنگ لائن کو زیادہ ذمہ داری دکھانا ہوگی۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت ٹیم میں نئی توانائی لا سکتی ہے لیکن دباؤ میں ان کی کارکردگی اصل امتحان ہوگی۔





















