لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ـلاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے شہر بھر میں بجلی کے ڈبل سورس کنکشنز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر لیسکو کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ایک ہفتے کے اندر اندر تمام ڈبل سورس کنکشن ختم کیے جائیں اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
لیسکو حکام کے مطابق یہ کارروائی صرف عام رہائشی علاقوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ سرکاری رہائش گاہوں میں بھی ڈبل سورس کنکشنز ختم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی آبادیوں میں بھی یہ آپریشن کیا جائے گا کیونکہ یہ کنکشنز انسانی جانوں کے لیے شدید خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ حالیہ دنوں لاہور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں ایک ایسے ہی ڈبل سورس کنکشن کے باعث ایک لائن مین حادثے کا شکار ہوا، جس کے بعد ادارے نے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور فوری ایکشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لیسکو انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں ڈبل سورس کنکشن کی وجہ سے کسی قسم کا جانی نقصان ہوا تو متعلقہ ایکسین اور ایس ڈی او کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں نوکری سے برطرفی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ کوئی بھی بااثر شخصیت یا سرکاری افسر اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہوگا اور کسی کو بھی ڈبل سورس کنکشن استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم حساس نوعیت کے مخصوص اداروں جیسے ہسپتال، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کو خود مختار فیڈرز کے تحت محدود پیمانے پر ڈبل سورس کنکشن کی اجازت حاصل رہے گی۔
روزنامہ تحریک کے صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کی جانب سے ڈبل سورس کنکشنز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ محض ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ بجلی کے ترسیلی نظام میں موجود ان خامیوں کو درست کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے نہ صرف تکنیکی مسائل بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہیں۔
ڈبل سورس کنکشن دراصل وہ غیر معیاری اور غیر محفوظ طریقہ کار ہے جس میں ایک ہی صارف یا عمارت کو بیک وقت دو مختلف ذرائع سے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ بظاہر یہ نظام بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، مگر عملی طور پر یہ بجلی کے نیٹ ورک میں پیچیدگی، اوورلوڈ اور سب سے بڑھ کر لائن مینوں کے لیے مہلک خطرات پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں مصطفیٰ آباد میں پیش آنے والا حادثہ اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کر گیا، جہاں ایک لائن مین کام کے دوران متاثر ہوا۔
لیسکو کی جانب سے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ اب اس مسئلے کو معمولی خلاف ورزی کے بجائے ایک ہنگامی خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ عام طور پر ایسے تکنیکی اور نیٹ ورک سے جڑے معاملات کو مرحلہ وار حل کیا جاتا ہے، لیکن یہاں فوری ایکشن کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صورتحال کو مزید مؤخر کرنا ممکن نہیں رہا۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کارروائی کا دائرہ صرف عام صارفین تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ سرکاری رہائش گاہوں اور بااثر افراد تک بھی پھیلایا گیا ہے۔ یہ نقطہ اس فیصلے کو مزید مضبوط اور مؤثر بناتا ہے کیونکہ ماضی میں اکثر ایسے اقدامات اثر و رسوخ کے باعث مکمل طور پر نافذ نہیں ہو پاتے تھے۔ تاہم حساس اداروں جیسے اسپتالوں اور اعلیٰ سرکاری دفاتر کے لیے محدود استثنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عملی ضروریات اور نظامی تسلسل کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔
انتظامی سطح پر یہ وارننگ بھی نہایت اہم ہے کہ اگر مستقبل میں کسی جانی نقصان کی ذمہ داری ڈبل سورس کنکشن پر ثابت ہوئی تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی، حتیٰ کہ نوکری سے برطرفی تک کا امکان ہوگا۔ یہ بات ادارے کے اندر احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لیسکو کا یہ فیصلہ ایک طرف شہری حفاظت اور لائن اسٹاف کی جانوں کے تحفظ کی کوشش ہے تو دوسری طرف بجلی کے نظام میں نظم و ضبط قائم کرنے کی ایک بڑی کوشش بھی ہے۔ اگر اس پر مکمل اور غیر جانبدار عملدرآمد ہو جاتا ہے تو یہ اقدام نہ صرف حادثات میں کمی لائے گا بلکہ توانائی کے شعبے میں انتظامی بہتری کی ایک مثال بھی بن سکتا ہے۔
ماہرینِ توانائی اور الیکٹریکل سسٹم انجینئرز کے مطابق لیسکو کی جانب سے ڈبل سورس کنکشنز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ تکنیکی اور حفاظتی لحاظ سے ایک درست اور بروقت اقدام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کے ترسیلی نظام میں کسی بھی قسم کی ڈبل سپلائی یا غیر منظم کنکشن نہ صرف سسٹم کے توازن کو متاثر کرتا ہے بلکہ فیلڈ اسٹاف کی جانوں کے لیے بھی شدید خطرہ پیدا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈبل سورس کنکشنز کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ لائنوں میں بیک فلو اور کراس فیڈنگ کا باعث بنتے ہیں، جس سے مرمتی کام کے دوران لائن بند ہونے کے باوجود کرنٹ موجود رہنے کا خدشہ رہتا ہے۔ یہی صورتحال اکثر لائن مین حادثات کا سبب بنتی ہے، جیسا کہ حالیہ واقعے میں سامنے آیا۔
توانائی کے ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بجلی کے نظام میں “سیف آئسولیشن” (Safe Isolation) بنیادی اصول ہے، اور ڈبل سورس کنکشن اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے نہ صرف انسانی جان کو خطرہ ہوتا ہے بلکہ پورے فیڈر سسٹم کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین کی رائے میں لیسکو کا ایک ہفتے کا ٹائم فریم سخت ضرور ہے لیکن عملی طور پر یہ ایک مضبوط انتظامی پیغام ہے کہ اب ایسے غیر محفوظ کنکشنز کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہو جاتا ہے تو یہ بجلی کے نظام میں حفاظتی کلچر کو بہتر بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
کچھ ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ مستقل حل کے لیے صرف کنکشنز ختم کرنا کافی نہیں بلکہ نگرانی کے نظام کو ڈیجیٹل اور خودکار بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی صارف غیر قانونی یا متبادل سورس استعمال نہ کر سکے۔
مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ یہ اقدام وقتی سختی کے باوجود طویل المدتی طور پر محفوظ اور منظم پاور ڈسٹری بیوشن سسٹم کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔





















