پاکستان کا “راصوب-250” اسٹیلتھ میزائل، عرب بحیرہ میں طاقت کا نیا توازن؟

یہ میزائل سمندر کی سطح کے قریب پرواز کرتے ہوئے دشمن کے ریڈار کیلئے ردعمل کا وقت کم کر سکتا ہے

اسلام آباد / کراچی (خصوصی دفاعی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان کے ابھرتے ہوئے اسٹیلتھ ایئر لانچڈ کروز میزائل “Rasoob-250” نے خطے کے دفاعی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے، جسے مستقبل کی “Distributed Warfare” اور “Precision Strike Capability” کی نئی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

دفاعی تجزیوں کے مطابق یہ میزائل جدید جنگی حکمتِ عملی کے اُس رجحان کی نمائندگی کرتا ہے جہاں بڑی تباہ کن طاقت کے بجائے کم لاگت، اسٹیلتھ، درست نشانہ بازی اور متعدد پلیٹ فارمز سے حملے کی صلاحیت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق “راصوب-250” کو پہلی بار IDEAS 2024 میں متعارف کروایا گیا، جہاں اسے پاکستان کی دفاعی صنعت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

یہ میزائل مبینہ طور پر Global Industrial Defence Solutions اور National Engineering and Scientific Commission کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے۔

راصوب-250 کی اہم خصوصیات

دفاعی رپورٹ کے مطابق اس میزائل کا وزن تقریباً 285 کلوگرام ہے جبکہ اس میں 75 کلوگرام کا نیم بکتر شکن وارہیڈ نصب کیا جا سکتا ہے۔

اس کی متوقع رینج 350 کلومیٹر بتائی جا رہی ہے جبکہ یہ تقریباً Mach 0.7 کی رفتار سے نچلی پرواز کرتے ہوئے ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی سب سے اہم خصوصیت اس کا Low Observable یا اسٹیلتھ ڈیزائن ہے، جو ریڈار سے بچنے اور دفاعی نظام کو دھوکہ دینے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ میزائل سمندر کی سطح کے قریب پرواز کرتے ہوئے دشمن کے ریڈار کیلئے ردعمل کا وقت کم کر سکتا ہے، جس سے بحری جنگی حکمتِ عملی میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

کن پلیٹ فارمز سے فائر ہوسکے گا؟

رپورٹ کے مطابق “راصوب-250” کو مختلف پلیٹ فارمز سے استعمال کرنے کیلئے ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جن میں ڈرونز، میرین پٹرول طیارے، ہیلی کاپٹرز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔

ممکنہ طور پر اسے JF-17 Thunder اور مستقبل کے جدید طیاروں کے ساتھ بھی منسلک کیا جا سکتا ہے۔

عرب بحیرہ میں نئی حکمتِ عملی؟

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اب عرب بحیرہ میں “Anti-Access/Area Denial” حکمتِ عملی پر زیادہ توجہ دے رہا ہے، جہاں ایسے کم وزن مگر اسٹیلتھ ہتھیار بحری طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بھارت اب بھی بحری قوت، جنگی بیڑے اور فضائی صلاحیت میں برتری رکھتا ہے، مگر “راصوب-250” جیسے ہتھیار دشمن کیلئے خطرات اور غیر یقینی صورتحال بڑھا سکتے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق “راصوب-250” صرف ایک نیا میزائل نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی سوچ میں تبدیلی کی علامت بھی ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ جدید جنگیں اب صرف بڑے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اسمارٹ، کم لاگت اور نیٹ ورک سے جڑے ہتھیاروں سے جیتی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ کم وسائل کے باوجود جدید اسٹیلتھ اور Precision Strike ٹیکنالوجی کے ذریعے خطے میں توازن برقرار رکھا جائے۔

ان کے مطابق اگر یہ پروگرام کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان کی دفاعی برآمدات اور بحری دفاعی حکمتِ عملی دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے “راصوب-250” کو ملکی دفاعی صنعت کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا۔

کئی صارفین نے مقامی سطح پر جدید ہتھیاروں کی تیاری کو خوش آئند قرار دیا جبکہ بعض افراد نے اس کے عملی تجربات اور حقیقی صلاحیتوں کے بارے میں سوالات بھی اٹھائے۔

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

دفاعی ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگوں میں اسٹیلتھ، کم وزن اور نیٹ ورک بیسڈ میزائل اہم کردار ادا کریں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ “راصوب-250” جیسے ہتھیار دشمن کی Planning Cycle کو متاثر کر سکتے ہیں، خصوصاً بحری محاذ پر۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اصل اثر اس وقت واضح ہوگا جب یہ میزائل مکمل آپریشنل سروس میں شامل ہوگا اور اسے بڑے پیمانے پر deploy کیا جائے گا۔

کیا “راصوب-250” مستقبل میں خطے کی بحری طاقت کا توازن بدل سکتا ہے؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین