تہران / واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست عسکری محاذ آرائی کے نئے مرحلے کا آغاز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ ادارے United States Central Command نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران میں گوروک اور جزیرہ قشم کے قریب واقع ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی مبینہ طور پر ایرانی ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
امریکی سینٹکام کے بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے چار ڈرونز کو کامیابی کے ساتھ مار گرایا گیا جبکہ آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کی جانب فائر کیے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو بھی راستے میں تباہ کر دیا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی کے دوران کسی امریکی فوجی یا تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں اداروں نے امریکی دعوؤں کی مختلف انداز میں تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب موجود امریکی بحری جہازوں کو صرف وارننگ دی گئی تھی اور ایرانی فورسز اپنی دفاعی پوزیشن پر قائم ہیں۔
ادھر Islamic Revolutionary Guard Corps نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق جوابی کارروائی میں متعدد میزائل فائر کیے گئے جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے چار ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی گئی جن کے بارے میں ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ بغیر اجازت حساس سمندری حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایرانی عسکری قیادت نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ایسی صورت حال کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ کارروائی میں سات میزائل داغے جن میں سے چھ کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر یہاں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
علاقائی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ عسکری محاذ پر بھی خطرناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق موجودہ صورتحال خطے کیلئے انتہائی حساس مرحلہ ہے جہاں کسی بھی غلط اندازے یا محدود کارروائی کے بڑے علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق عالمی تجارت، تیل کی رسد اور بین الاقوامی سلامتی سے بھی ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر ایران اور امریکا کے درمیان تازہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کئی صارفین نے خطے میں امن کی ضرورت پر زور دیا جبکہ بعض حلقوں نے دونوں ممالک سے تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خلیجی خطہ ایک بڑے بحران کی طرف جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی وسیع جنگ کے خطرے کو روکا جا سکے۔
خطے میں امن و استحکام پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ جنگی بیانات اور عسکری کارروائیاں وقتی فائدہ دے سکتی ہیں لیکن دیرپا امن صرف مذاکرات، سفارت کاری اور اعتماد سازی سے ہی ممکن ہے۔
میری رائے میں مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی بحرانوں کا شکار ہے اور کسی نئی بڑی جنگ کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ خطہ مزید عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔





















