پاکستان مصنوعی ذہانت کی عالمی طاقتوں کی صف میں شامل

پاکستان نے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن’’وائیکو‘‘ کی بانی رکنیت حاصل کر لی ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)پاکستان نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل سے متعلق عالمی فیصلوں میں اپنا کردار بڑھاتے ہوئے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن’’وائیکو‘‘ کی بانی رکنیت حاصل کر لی ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے عالمی ٹیکنالوجی سفارت کاری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

شنگھائی میں منعقدہ تقریب میں پاکستان سمیت 29 ممالک کے نمائندوں نے تنظیم کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔ چین، پاکستان، روس، انڈونیشیا، قازقستان اور لاؤس سمیت معاہدے پر دستخط کرنے والے تمام ممالک کو ’وائیکو‘ کے بانی اراکین کا درجہ حاصل ہوگا۔ نئی تنظیم ایک خودمختار بین الحکومتی ادارے کے طور پر کام کرے گی اور اس کا صدر دفتر شنگھائی میں قائم ہوگا۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے علاوہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے اعلیٰ نمائندے شریک ہوئے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اس موقع پر موجود تھے۔

’وائیکو‘ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

مصنوعی ذہانت اب محض کمپیوٹر یا موبائل فون تک محدود ٹیکنالوجی نہیں رہی۔ اس کا استعمال تعلیم، صحت، تجارت، صنعت، زراعت، دفاع، عدالتی نظام، صحافت اور سرکاری امور سمیت تقریباً ہر شعبے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ غلط معلومات، شہریوں کی نجی زندگی، روزگار کے مواقع، ڈیجیٹل نگرانی، سائبر جرائم اور خودکار ہتھیاروں جیسے خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک میں مصنوعی ذہانت سے متعلق الگ الگ قوانین اور ضابطے موجود ہیں، تاہم عالمی سطح پر ایسا مشترکہ نظام ابھی تشکیل کے مراحل میں ہے جس کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے متفقہ اصول وضع کیے جا سکیں۔ ’وائیکو‘ اسی ضرورت کے پیش نظر قائم کی گئی ہے۔

تنظیم کے بنیادی مقاصد میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون بڑھانا، تکنیکی معیارات پر مشاورت، محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا اور اس ٹیکنالوجی کے فوائد صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود رہنے سے روکنا شامل ہے۔

بانی ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانوں کے مفاد، سلامتی اور بہبود کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تنظیم اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد کی پاسداری کرتے ہوئے باہمی مشاورت، مشترکہ شراکت اور مساوی فوائد کے اصولوں کو آگے بڑھائے گی۔

پاکستان کا مؤقف

پاکستان نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی ایسی حکمرانی کی حمایت کی ہے جس میں ترقی پذیر ممالک کو بھی فیصلہ سازی میں برابر کی آواز اور جدید ٹیکنالوجی تک مناسب رسائی حاصل ہو۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے وسائل، تحقیق، تربیت اور کمپیوٹنگ کی سہولتیں صرف چند امیر ممالک یا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اختیار میں نہیں رہنی چاہییں۔ ترقی پذیر ممالک کی تکنیکی استعداد بڑھائے بغیر مصنوعی ذہانت کے فوائد پوری انسانیت تک نہیں پہنچ سکتے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، ’وائیکو‘ کے بانی رکن کی حیثیت سے عالمی مصنوعی ذہانت کی خلیج کم کرنے، منصفانہ رسائی یقینی بنانے اور ترقی کے لیے اس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے میں کردار ادا کرے گا۔

عالمی کانفرنس میں پاکستانی وفد کی شرکت

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستانی وفد کے ہمراہ شنگھائی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس 2026ء کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی۔

افتتاحی تقریب سے چین کے صدر شی جن پنگ نے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیز رفتار تکنیکی ترقی کو انسانی مفاد، مشترکہ دانش اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے تحت آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

عالمی کانفرنس میں حکومتوں، تحقیقی اداروں، جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندے مصنوعی ذہانت کے نئے رجحانات، اس کے معاشی امکانات اور ممکنہ خطرات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ آسیان سیکرٹریٹ نے بھی کانفرنس کو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار ترقی پر عالمی تبادلۂ خیال کا اہم پلیٹ فارم قرار دیا ہے۔ آسیان سیکرٹریٹ

پاکستان کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

’وائیکو‘ کی بانی رکنیت پاکستان کے لیے کئی امکانات پیدا کرتی ہے۔ پاکستان مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی ضابطوں اور تکنیکی معیار کی تیاری میں ابتدا ہی سے اپنی رائے پیش کر سکے گا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی جامعات، تحقیقی اداروں، نوجوان ماہرین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مشترکہ تحقیق، تربیت اور بین الاقوامی منصوبوں کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔

زراعت میں فصلوں کی نگرانی، صحت میں بیماریوں کی جلد تشخیص، تعلیم میں انفرادی ضروریات کے مطابق تدریس، سرکاری امور میں شفافیت اور صنعتوں میں خودکاری جیسے شعبوں میں پاکستان عالمی تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

تاہم بانی رکنیت بذاتِ خود مالی سرمایہ کاری، جدید آلات یا تکنیکی خودکفالت کی ضمانت نہیں۔ حقیقی فائدہ اسی وقت ہوگا جب پاکستان عالمی سطح پر کیے جانے والے وعدوں کو اپنی قومی پالیسی، تعلیمی نظام، تحقیق اور صنعت سے مربوط کرے گا۔

ماہرین کی رائے

ٹیکنالوجی اور پالیسی کے ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے عالمی ضابطے بنانے کے عمل میں ترقی پذیر ممالک کی شمولیت ناگزیر ہے۔ اگر عالمی اصول صرف ان ممالک اور کمپنیوں نے وضع کیے جن کے پاس پہلے ہی جدید نظام، بڑے اعدادوشمار اور بے پناہ سرمایہ موجود ہے تو کم وسائل رکھنے والے ممالک ہمیشہ صارف بنے رہیں گے، تخلیق کار نہیں بن سکیں گے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس رکنیت کے بعد تین شعبوں پر فوری توجہ دینا ہوگی: معیاری ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچا، مصنوعی ذہانت کی تربیت یافتہ افرادی قوت اور شہریوں کے نجی معلومات کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی۔

ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کا معاملہ محض اعلانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ یہ واضح کرنا ضروری ہوگا کہ کسی خودکار نظام کے غلط فیصلے، امتیازی نتائج یا شہری معلومات کے ناجائز استعمال کی صورت میں ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ’وائیکو‘ کا بانی رکن بننا بلاشبہ ایک مثبت سفارتی اور تکنیکی پیش رفت ہے۔ مصنوعی ذہانت کے عالمی اصول ابھی تشکیل پا رہے ہیں، اس لیے فیصلہ سازی کی میز پر ابتدا ہی سے موجود ہونا مستقبل میں پاکستان کے مفادات کے تحفظ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن ہمیں رکنیت اور صلاحیت کے فرق کو سمجھنا ہوگا۔ عالمی تنظیم میں نشست مل جانا کامیابی کا آغاز ہے، منزل نہیں۔ اگر ملک کی جامعات میں جدید تحقیق کے وسائل محدود رہیں، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ نہ ہو اور نوجوانوں کو صرف مصنوعی ذہانت کے تیار شدہ پروگرام استعمال کرنا سکھایا جائے تو پاکستان اس انقلاب میں تخلیق کار بننے کے بجائے محض صارف بن کر رہ جائے گا۔

پاکستان کو فوری طور پر ایک قابلِ عمل قومی لائحہ عمل درکار ہے جس میں اسکول سے جامعہ تک جدید تعلیم، اساتذہ کی تربیت، مقامی زبانوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے نظام، زرعی و طبی تحقیق اور چھوٹے کاروباروں کی تکنیکی معاونت شامل ہو۔ سرکاری اداروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ شفافیت، جواب دہی اور شہری معلومات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا۔

یہ رکنیت پاکستان کو دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا موقع فراہم کرتی ہے، مگر اس موقع کو کامیابی میں بدلنے کے لیے اندرونِ ملک تحقیق، سرمایہ کاری اور قانون سازی ضروری ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کی عالمی تنظیم کا رکن بن گیا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اب اپنے نوجوانوں، اداروں اور صنعتوں کو اس قابل بنا سکے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں اپنا حصہ بھی تخلیق کر سکیں؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین