مفتی عبدالقوی کا پوڈکاسٹ میں حیران کن اعتراف، اپنے بارے میں بڑا بیان دے دیا

متنازع مذہبی شخصیت نے خود کو ’ٹھرکی‘ قرار دیا، بیان سوشل میڈیا پر وائرل، صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)متنازع مذہبی شخصیت مفتی عبدالقوی نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں اپنے بارے میں ایسا بیان دیا جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے خود کو ’’ٹھرکی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں۔

پوڈکاسٹ کے دوران میزبان فریحہ فرخ نے مفتی عبدالقوی سے سوال کیا کہ کیا وہ خود کو ’’ٹھرکی‘‘ یا ’’فلرٹ‘‘ سمجھتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں مفتی عبدالقوی نے کہا، ’’جی، میں ٹھرکی ہوں، ہزار بار مانتا ہوں کہ میں ٹھرکی ہوں۔‘‘

اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کھلے دل اور کھلے ذہن کے انسان ہیں، مختلف لوگوں کی شخصیت، انداز اور رویوں کا مشاہدہ کرنا ان کی عادت ہے، اور وہ اسی کیفیت کو اپنی زبان میں ’’ٹھرک‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔

مفتی عبدالقوی کا یہ بیان منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا، جہاں صارفین نے مختلف انداز میں اس پر ردعمل کا اظہار کیا۔

کئی صارفین نے میزبان فریحہ فرخ کو ایسے مہمان کو پوڈکاسٹ میں مدعو کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ بعض افراد کا کہنا تھا کہ کم از کم مفتی عبدالقوی نے اپنے بارے میں کھل کر اعتراف کیا، جس پر لوگ اپنی اپنی رائے قائم کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس بیان کے مختلف کلپس بھی گردش کر رہے ہیں، جن پر تبصروں اور آراء کا سلسلہ جاری ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق سوشل میڈیا کے دور میں معروف شخصیات کے بیانات چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے بیانات نہ صرف عوامی توجہ حاصل کرتے ہیں بلکہ مختلف حلقوں میں ان کی تشریح اور تنقید بھی شروع ہو جاتی ہے، جس سے ایک نئی عوامی بحث جنم لیتی ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس بیان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض افراد نے اسے غیر سنجیدہ قرار دیا، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ مفتی عبدالقوی نے اپنی رائے کھل کر بیان کی، جس پر ہر شخص اپنی سوچ کے مطابق رائے قائم کر سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

ابلاغیات کے ماہرین کے مطابق عوامی شخصیات کے متنازع بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوتے ہیں اور ان پر مختلف زاویوں سے بحث شروع ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات کو مکمل سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔

عوامی شخصیات کے بیانات اکثر معاشرے میں بحث و مباحثے کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ذمہ دارانہ گفتگو، مکمل تناظر اور باوقار اندازِ بیان ہی صحت مند عوامی مکالمے کو فروغ دے سکتا ہے۔

میری رائے میں کسی بھی متنازع بیان پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس کا مکمل پس منظر اور سیاق و سباق جاننا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر مختصر ویڈیوز یا اقتباسات بعض اوقات اصل گفتگو کا مکمل مفہوم پیش نہیں کرتے، اس لیے متوازن اور ذمہ دارانہ طرزِ فکر اختیار کرنا زیادہ مناسب ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین