فیفا ورلڈ کپ فائنل پر خطرے کے بادل، کینیڈا کی جنگلاتی آگ کا دھواں نیویارک تک پہنچ گیا

فضائی آلودگی میں اضافے پر صحت کا الرٹ جاری، شکاگو میں فٹبال میچ ملتوی، ورلڈ کپ فائنل سے قبل خدشات بڑھ گئے

نیویارک (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)کینیڈا میں جاری جنگلاتی آگ کے دھوئیں نے امریکا کے شمال مشرقی علاقوں، خصوصاً نیویارک اور نیو جرسی، کی فضائی کیفیت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث فیفا ورلڈ کپ فائنل کے انعقاد کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکام نے فضائی آلودگی میں اضافے کے پیش نظر صحت سے متعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے اور سخت جسمانی سرگرمیوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی دوران 19 جولائی کو اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان فیفا ورلڈ کپ کا فائنل نیو یارک، نیو جرسی اسٹیڈیم میں شیڈول ہے، جہاں 80 ہزار سے زائد شائقین کی آمد متوقع ہے۔

اگرچہ فیفا یا مقامی حکام کی جانب سے اب تک فائنل کے شیڈول میں کسی قسم کی تبدیلی یا منسوخی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دھند آلود فضا اور خراب فضائی معیار کے باعث خدشات ضرور بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسپین کی قومی ٹیم بدھ کے روز نیو جرسی پہنچنے کے بعد جمعرات کو معمول کے مطابق کھلے میدان میں پریکٹس کرتی رہی، جبکہ ارجنٹینا کی ٹیم نے جمعہ کو اپنا تربیتی سیشن نیو جرسی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر نیشنل ویمنز ساکر لیگ کے ایک میچ میں خراب فضائی معیار کے باعث ہر ہاف کے دوران اضافی واٹر بریکس دیے گئے، جبکہ بعض کھلاڑیوں نے ایسے حالات میں مقابلہ کرانے پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔

دوسری جانب شکاگو میں میجر لیگ ساکر کا ایک میچ فضائی آلودگی کی شدت کے باعث ملتوی کر دیا گیا، جس سے موجودہ موسمی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ اور ہفتے کے دوران متوقع بارشوں کے باعث فضائی معیار میں بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ورلڈ کپ فائنل کے انعقاد کے حوالے سے خدشات میں بھی کمی آ سکتی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور جنگلاتی آگ کے بڑھتے ہوئے واقعات اب صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ کھیلوں سمیت مختلف عالمی سرگرمیوں کو بھی براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔ اگر فضائی آلودگی برقرار رہی تو منتظمین کو کھلاڑیوں اور شائقین کی صحت کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔

عوامی رائے

فٹبال شائقین نے سوشل میڈیا پر امید ظاہر کی ہے کہ موسم بہتر ہو جائے گا اور فائنل اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہوگا، جبکہ کئی افراد نے کھلاڑیوں اور تماشائیوں کی صحت کو اولین ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرینِ ماحولیات اور کھیلوں کے طبی ماہرین کے مطابق خراب فضائی معیار میں شدید جسمانی سرگرمی کھلاڑیوں کی کارکردگی اور صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فضائی آلودگی خطرناک حد تک برقرار رہی تو منتظمین کو حفاظتی اقدامات یا متبادل انتظامات پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب دنیا کے بڑے کھیلوں کے مقابلوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ ایسے حالات میں کھیلوں کی عالمی تنظیموں کو موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع اور بروقت حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

میری رائے میں کھیلوں کے بڑے عالمی مقابلوں میں کھلاڑیوں اور تماشائیوں کی صحت ہر چیز پر مقدم ہونی چاہیے۔ اگر موسم اور فضائی معیار محفوظ ہوں تو مقابلے اپنی اصل روح کے مطابق منعقد ہوتے ہیں، جبکہ خطرناک حالات میں بروقت اور ذمہ دارانہ فیصلے ہی بہترین راستہ ثابت ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین