تحریر: شوکت ابرار
ہمارے معاشرے میں جب بھی خواتین کے خلاف ہراسانی، زیادتی یا بدسلوکی کا کوئی واقعہ سامنے آتا ہے تو بحث کا رخ اکثر ایک مخصوص اور فرسودہ سمت میں موڑ دیا جاتا ہے۔ بجائے اس کے کہ سوال مجرم کی ذہنیت، سماجی تربیت، قانونی کمزوریوں اور اخلاقی زوال پر اٹھایا جائے، فوراً عورت کے لباس، اس کی آزادی، اس کے طرزِ زندگی یا نام نہاد بے حیائی کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ گویا ہر جرم کا سبب عورت ہے اور ہر خطا کا بوجھ اسی کے کندھوں پر ڈال دینا آسان ترین راستہ ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اصل مسئلے سے نظریں چرانے کے مترادف بھی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم حکومت سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کرتے کہ نصابِ تعلیم کو ایسا بنایا جائے جو بچوں اور نوجوانوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے قابل نہ بنائے بلکہ انہیں زندگی گزارنے کے بنیادی آداب بھی سکھائے؟ انہیں بتایا جائے کہ عورت کا احترام کیسے کرنا ہے، گفتگو کے آداب کیا ہیں، ذاتی حدود کیا ہوتی ہیں، اور اگر کوئی لڑکی، عورت یا کوئی بھی انسان کسی تعلق، پیشکش یا بات سے انکار کر دے تو اس انکار کو خاموشی، وقار اور برداشت کے ساتھ قبول کرنا چاہیے، نہ کہ اسے انا کا مسئلہ بنا کر انتقام، ہراسانی یا تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے۔
ہماری تعلیمی اور سماجی تربیت میں سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ ہم بچوں کو ریاضی، سائنس اور زبانیں تو سکھاتے ہیں، مگر احترام، رضامندی، ضبطِ نفس، جذباتی توازن، غصے پر قابو اور انسانی حدود کا شعور نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ایسے افراد پیدا ہو رہے ہیں جو "نہ” سننے کے عادی نہیں، جو عورت کو ایک خودمختار انسان کے بجائے اپنی خواہشات کے تابع وجود سمجھتے ہیں، اور جو انکار کو اپنی تذلیل تصور کر کے ردعمل میں جرم تک جا پہنچتے ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ عورت کے خلاف ہر جرم کے بعد کچھ حلقے فوراً یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں کہ عورت کا لباس نامناسب تھا، ماحول خراب تھا، یا معاشرے میں بے حیائی بڑھ گئی ہے۔ لیکن اگر مسئلہ واقعی صرف لباس اور بے حیائی کا ہوتا تو پھر ایسے واقعات ان جگہوں پر کیوں پیش آتے ہیں جہاں نہ مخلوط ماحول ہے، نہ عورت کی وہ موجودگی جسے جواز بنایا جاتا ہے؟ مدارس، یتیم خانوں اور دیگر مذہبی یا بند اداروں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور بدسلوکی کے واقعات اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ مسئلہ عورت کے لباس یا اس کی آزادی نہیں، بلکہ بیمار ذہنیت، اخلاقی دیوالیہ پن، طاقت کے غلط استعمال اور ناقص تربیت کا ہے۔
یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر ہم کبھی بھی اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کر سکتے۔ جب تک ہم ہر جرم کے بعد عورت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے، مجرم کے لیے راستہ آسان کرتے رہیں گے۔ جب تک ہم بچوں اور نوجوانوں کو یہ نہیں سکھائیں گے کہ دوسروں کی عزت، رضامندی اور آزادی کا احترام کیا ہوتا ہے، تب تک قانون بھی اکیلا کچھ نہیں کر سکے گا۔ قانون جرم کے بعد حرکت میں آتا ہے، مگر تربیت جرم سے پہلے انسان کو روکنے کی قوت پیدا کرتی ہے۔
اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بیانیہ بدلیں۔ سوال عورت کے لباس کا نہیں، مرد کی تربیت کا ہے۔ مسئلہ آزادی کا نہیں، ذہنیت کا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت نصاب میں اخلاقی و سماجی تربیت کو شامل کرے، والدین گھروں میں احترامِ انسانیت کا ماحول پیدا کریں، تعلیمی ادارے بچوں کو رضامندی، حدود اور اخلاقی ذمہ داری کا شعور دیں، اور مذہبی و سماجی رہنما جرم کا جواز ڈھونڈنے کے بجائے جرم کے خلاف واضح اور غیر مبہم موقف اختیار کریں۔
ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں عورت کو مسلسل اپنی صفائی دینی پڑے، بلکہ وہ ہوتا ہے جہاں مرد کو یہ سکھایا جائے کہ عورت کوئی جواز نہیں، ایک انسان ہے؛ اس کی مرضی، اس کی عزت اور اس کی آزادی قابلِ احترام ہے۔ جب تک ہم یہ بنیادی سبق اپنی نسلوں کو نہیں سکھائیں گے، تب تک ہر سانحہ کے بعد ہماری بحثیں بدلتی رہیں گی، مگر حالات نہیں بدلیں گے۔





















