لندن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)آلو دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غذاؤں میں شمار ہوتا ہے، تاہم ایک نئی طویل المدتی تحقیق نے آلو کے چپس اور فرینچ فرائز کے شوقین افراد کیلئے تشویش ناک انکشافات کیے ہیں۔
طبی جریدے The BMJ میں شائع ہونے والی چالیس سالہ تحقیق کے مطابق آلو کو فرینچ فرائز یا چپس کی شکل میں باقاعدگی سے استعمال کرنے والے افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ تقریباً 20 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ آلو بذاتِ خود اتنا نقصان دہ نہیں جتنا اس کا فرائی کیا ہوا استعمال ہے۔
ماہرین کے مطابق جب آلو کو گہرے اور گرم تیل میں فرائی کیا جاتا ہے تو اس میں اضافی چکنائی اور کیلوریز شامل ہو جاتی ہیں جو جسم میں انسولین کے نظام کو متاثر کرتی ہیں اور شوگر کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
تحقیق میں دلچسپ طور پر یہ بھی دیکھا گیا کہ ابلے ہوئے، بیک کیے گئے یا میشڈ آلو کھانے والے افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات میں کوئی نمایاں اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ آلو نہیں بلکہ اس کا غیر صحت بخش طریقے سے تیار کیا جانا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر فرینچ فرائز کی جگہ دلیہ، براؤن چاول یا دیگر سالم اناج والی غذائیں استعمال کی جائیں تو ذیابیطس کے خطرے میں تقریباً 19 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
اسی طرح اگر ابلے ہوئے آلو کی جگہ بھی سالم اناج استعمال کیا جائے تو بیماری کے خطرات میں تقریباً 4 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سفید چاول کو ابلے ہوئے آلو کا متبادل سمجھنا درست نہیں کیونکہ بعض صورتوں میں سفید چاول کا زیادہ استعمال بھی شوگر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق جدید طرزِ زندگی میں چپس، فرینچ فرائز اور فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف ذیابیطس بلکہ موٹاپے، دل کے امراض اور ہائی کولیسٹرول جیسے مسائل کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
انہوں نے والدین کو خصوصی طور پر مشورہ دیا ہے کہ بچوں کی خوراک میں بازار کے چپس اور فرائیڈ اسنیکس کی مقدار کم کریں اور ان کی جگہ قدرتی اور غذائیت سے بھرپور متبادل فراہم کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آلو کھانا پسند ہو تو اسے چھلکے سمیت ابال کر، بھاپ میں پکا کر یا ہلکے تیل کے ساتھ بیک کر کے استعمال کرنا زیادہ صحت مند انتخاب ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تحقیق ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ مسئلہ اکثر خوراک نہیں بلکہ اسے تیار کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فاسٹ فوڈ کلچر کے پھیلاؤ کے ساتھ صحت کے مسائل میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اس لیے غذائی عادات میں توازن وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
عوامی ردعمل
تحقیق سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔
بعض افراد نے چپس اور فرینچ فرائز کے استعمال میں کمی لانے کا عزم ظاہر کیا جبکہ کئی صارفین نے صحت مند غذائی متبادل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماہرین غذائیت کے مطابق متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور کم پراسیسڈ خوراک کا استعمال ذیابیطس سمیت متعدد بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سالم اناج، سبزیاں، پھل اور قدرتی غذائیں روزمرہ خوراک کا حصہ بنانی چاہئیں۔
تیز رفتار زندگی میں فوری اور آسان خوراک کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے، لیکن صحت مند معاشرے کیلئے ضروری ہے کہ غذائی انتخاب کرتے وقت ذائقے کے ساتھ صحت کو بھی ترجیح دی جائے۔
میری رائے میں آلو خود کوئی نقصان دہ غذا نہیں بلکہ اس کا مسلسل فرائیڈ شکل میں استعمال مسئلہ بن سکتا ہے۔ اگر آلو کو مناسب انداز میں پکایا جائے تو یہ متوازن خوراک کا حصہ بن سکتا ہے، لیکن بازار کے چپس اور فرینچ فرائز کا حد سے زیادہ استعمال یقیناً احتیاط کا متقاضی ہے۔





















